کاروار، 29 / دسمبر (ایس او نیوز) سماجی اور معاشرتی تبدیلیوں پر نظر رکھنے والوں کو خیال ہے کہ کبھی کونکنی، مراٹھی اور کنڑا کو مرکز رہنے والے کاروار شہر میں دھیرے دھیرے اب ہندی زبان سبقت لیتی جا رہی ہے اور ایک زمانے سے یہاں رائج رہنے والی مذکورہ زبانیں پیچھے ہٹتی جا رہی ہیں ۔
تاریخی حیثیت سے یہاں کونکنی ہی اہم ترین زبان تھی ۔ اس کے بعد مراٹھی کا زور تھا ۔ پھر ریاست کرناٹکا کی طرف سےکنڑا زبان کے فروغ کے لئے کی گئی کوششوں سے یہاں کنڑا بھی اہم زبان بن گئی ۔ لیکن اب یہ صورتحال بدلتی جا رہی ہے ۔
شہر میں ہندی زبان کے فروغ اور بڑھتے ہوئے اثرات کے تعلق سے کہا جا رہا ہے کہ اس میں سب سے اہم کردار کئیگا نیوکلیئر پلانٹ اور انڈین نیول بیس نے ادا کیا ہے ۔ ان قومی سطح کے منصوبوں کی وجہ سے ہندوستان بھر سے اسامیوں کی بھرتی ہونے لگی اور یہاں پورے ملک سے لوگوں کا آنا جانا شروع ہو گیا ۔ اور مقامی طور پر ہندی زبان کا چلن بڑھتا گیا ۔
شہر کے عوام اس تبدیلی کے تعلق سے الگ الگ سوچ رکھتے ہیں ۔ ایک طبقہ ایسا ہے جو اسے محض لسانی اختلاف کا ایک پہلو مانتا ہے تو دوسری طرف ایک بڑا طبقہ ایسا ہے جو یہ ماننے لگا ہے اس سے مقامی کونکنی زبان کا زوال شروع ہوا ہے ۔ سوچ کے اس دوراہے پر کھڑے شہر کے ایک شخص نے کہا "ایک طرف ہم لوگ نئی زبانیں سیکھ رہے ہیں اور ملک کے مختلف علاقوں کے لوگوں کے ساتھ رابطے میں آ رہے ہیں ۔ دوسری طرف ہماری اپنی زبان اور ثقافت ہی ختم ہونے کے خطرے سے دوچار ہوگئے ہیں ۔"
اس صورت حال پر کنڑا ساہتیہ پریشد کے تعلقہ صدر راما نائک نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کاروار میں 30-40 سال قبل کونکنی اور مراٹھی زبانوں کا زور تھا ۔ یہاں کے کونکن مراٹھی حقیقیی باشندوں کی جڑیں مہاراشٹرا میں تھیں ۔ اس وجہ سے یہاں مراٹھی کا رجحان زیادہ تھا ۔ اس کے بعد کرناٹکا میں سرکاری اور انتظامی زبان کنڑا ہوگئی تو یہاں کنڑا ملازمین کی تعداد بڑھ گئی ۔ ملازمت کی رغبت نے لوگوں کو مراٹھی کی جگہ کنڑا سیکھنے پر آمادہ کیا اور کنڑا کو فروغ ہوتا گیا ۔
اس کے علاوہ بین الاقوامی زبان ہونے کی وجہ سے انگلش زبان بھی لوگوں کے لئے کشش کا باعث بن گئی ۔ پرائیویٹ انگلش میڈیم اسکولوں کے قیام کی وجہ سے انگریزی بھی شہر کی ایک اہم زبان بن گئی ۔ اس وجہ سے کنڑا اسکولوں میں کمی ہونے لگی اور کنڑا زبان ایک قدم پیچھے ہٹنے لگی ۔
اسی عرصے میں کئیگا، نیول بیس کی وجہ سے ملک کے الگ الگ علاقوں سے لوگوں آمد ہونے لگی ۔ مختلف زمروں میں مزدوری کے لئے آسام، بہار، اوڈیشہ، مغربی بنگال وغیرہ سے آنے والی قطار لگ گئی ۔ فطری طور پر ان کے اور مقامی عوام کے سماجی اور تجارتی رابطے اور بول چال کے لئے ہندی زبان اہم ذریعے کے طور پر ابھرنے لگی ۔
تجارتی طور پر ایک اور اہم تبدیلی یہ ہوئی کہ بازار میں گجراتی اور راجستھانی کاروباریوں کی تعداد تیزی سے بڑھنے لگی ۔ ان کے ساتھ خریداری کرنے والے گاہک اور لین دین کرنے والے مقامی کاروباری حضرات کے لئے بھی واحد ذریعہ ہندی تھی ۔ اس طرح دیکھتے ہی دیکھتے بازار میں کنڑا، مراٹھی اور کونکنی زبان کا استعمال کم ہونے لگا ۔ اور اب کہا جا سکتا ہے کہ کاروار شہر میں ہندی عوامی زبان بن گئی ہے ۔