تہران ، 13/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی) ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ زیر غور ممکنہ امن معاہدہ فوری طور پر کسی حتمی جوہری معاہدے کی شکل اختیار نہیں کرے گا، بلکہ سب سے پہلے ایک عبوری معاہدہ نافذ کیا جائے گا۔ اس ابتدائی مرحلے کی کامیاب تکمیل کے بعد ہی دونوں ممالک ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق باضابطہ اور تفصیلی مذاکرات کا آغاز کریں گے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق عباس عراقچی نے بتایا کہ مجوزہ معاہدے کے مسودے میں مجموعی طور پر 14 نکات شامل ہیں۔ ان نکات میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا، کشیدگی اور تنازعہ کا خاتمہ، نیز امریکہ اور ایران کی جانب سے ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت کی یقین دہانی شامل ہے۔ ان کے مطابق جوہری پروگرام سے متعلق معاملات پر مذاکرات دوسرے مرحلے میں ہوں گے، جو تقریباً 60 دن تک جاری رہ سکتے ہیں۔
عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس آبی گزرگاہ کا انتظام جنگ سے پہلے والی صورتحال کے مطابق نہیں چلایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر ایران اور عمان کا اختیار ہے اور ایران اس راستے سے گزرنے والے بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنائے گا۔ تاہم انتظامی ڈھانچے اور خدمات کے طریقہ کار میں تبدیلیاں متعارف کرائی جائیں گی۔
ایرانی وزیر خارجہ نے یہ بھی تصدیق کی کہ امریکہ کے ساتھ مجوزہ جنگ بندی معاہدے میں ایران کے ضبط شدہ اور منجمد اثاثوں کو مرحلہ وار بحال کرنے کی شق شامل ہے۔ تاہم اس حوالے سے حتمی طریقۂ کار اور شرائط پر ابھی مذاکرات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں فراہم کی جانے والی مختلف خدمات کے لیے فیس وصول کرنے کا نظام بھی متعارف کرایا جا سکتا ہے۔
عباس عراقچی نے امریکہ پر ماضی میں اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو ایسے فریقوں کا سامنا ہے جو اپنے وعدوں پر عمل نہیں کرتے۔ ان کے بقول آئندہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں ایسی ضمانتیں شامل کرنا ضروری ہوگا جن سے وعدہ خلافی کے امکانات کو کم کیا جا سکے۔
اس سے قبل سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں عباس عراقچی نے کہا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تیار کیا جا رہا ’اسلام آباد میمورینڈم‘ اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دونوں ممالک اس سمجھوتے کے حصول کے لیے پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ قریب آ چکے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے ذرائع ابلاغ اور مبصرین سے اپیل کی کہ سرکاری اعلان سے پہلے معاہدے کی تفصیلات کے بارے میں قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے، کیونکہ حتمی منظوری کے بعد ہی اس کے مکمل نکات عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔