بنگلورو ، 13 جون(ایس او نیوز /ایجنسی) ریاستی وزیر داخلہ، اطلاعات، بایو ٹیکنالوجی اور ای۔گورننس پریانک کھرگے نے اعلان کیا ہے کہ دیہی اور نیم شہری علاقوں کے نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے اور ان کی روزگار صلاحیت میں اضافہ کرنے کے مقصد سے ریاست کے 50 سرکاری تعلیمی اداروں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی جدید تجربہ گاہیں قائم کی جائیں گی۔ اس منصوبے کے لیے ریاستی حکومت نے 10 کروڑ روپے کی انتظامی منظوری دے دی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ تجربہ گاہیں ریاست کے دوسرے اور تیسرے درجے کے شہروں اور قصبوں میں واقع سرکاری کالجوں میں قائم کی جائیں گی۔ یہ اقدام ریاستی حکومت کے مالیاتی سال 2026-27 کے بجٹ میں کیے گئے اعلان کے مطابق عمل میں لایا جا رہا ہے۔
پریانک کھرگے کے مطابق اس منصوبے کو مرکزی حکومت کے اے آئی مشن کے اشتراک سے نافذ کیا جائے گا، جس کا بنیادی مقصد دیہی علاقوں کے نوجوانوں کو جدید مہارتوں سے آراستہ کرنا اور انہیں روزگار کے بہتر مواقع کے لیے تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ منتخب تعلیمی اداروں میں جدید ترین مصنوعی ذہانت پر مبنی تجربہ گاہیں قائم کی جائیں گی، جہاں طلبہ کو عملی تربیت، تکنیکی مہارتوں کے فروغ اور اختراعی منصوبوں پر کام کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ اس سے نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے واقفیت حاصل ہوگی اور ان کی ملازمت کے حصول کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
وزیر موصوف نے مزید بتایا کہ مرکزی حکومت اے آئی مشن کے تحت ہر تجربہ گاہ کے لیے تین سال کی مدت میں 68.98 لاکھ روپے کی مالی امداد فراہم کرے گی، جو تین مرحلوں میں جاری کی جائے گی۔ اس کے علاوہ ریاستی حکومت نے اپنے بجٹ میں اعلان کردہ 10 کروڑ روپے کی رقم جاری کرنے کی منظوری دی ہے، جن میں سے پہلے سال کے لیے 6.29 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ منصوبے کے پہلے مرحلے میں 23 تعلیمی اداروں کا انتخاب کیا گیا ہے، جہاں مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سائنس سے متعلق جدید تجربہ گاہوں کے قیام کا کام جلد شروع کیا جائے گا۔
پریانک کھرگے نے امید ظاہر کی کہ یہ اقدام ریاست کے نوجوانوں کو مستقبل کی ٹیکنالوجی سے جوڑنے، اختراعات کو فروغ دینے اور عالمی سطح کے روزگار کے مواقع حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔