ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ساحلی کرناٹکا میں زور دار بارش جاری؛ بھٹکل سمیت اُترکنڑا کے پانچ ساحلی تعلقوں میں سنیچر کو اسکول بند، سڑلگی میں چٹان کھسک گئی

ساحلی کرناٹکا میں زور دار بارش جاری؛ بھٹکل سمیت اُترکنڑا کے پانچ ساحلی تعلقوں میں سنیچر کو اسکول بند، سڑلگی میں چٹان کھسک گئی

Fri, 25 Jul 2025 21:57:28    S O News
ساحلی کرناٹکا میں زور دار بارش جاری؛ بھٹکل سمیت اُترکنڑا کے پانچ ساحلی تعلقوں میں سنیچر کو اسکول بند، سڑلگی میں چٹان کھسک گئی

بھٹکل، 25 جولائی (ایس او نیوز) — ساحلی کرناٹکا میں مسلسل جاری موسلا دھار بارش نے معمولاتِ زندگی درہم برہم کر دیے ہیں۔ محکمہ موسمیات کی جانب سے ہفتہ، 26 جولائی کو بھی اُترکنڑا ضلع کے ساحلی علاقوں کے لیے ریڈ الرٹ جاری کیے جانے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے بھٹکل، ہوناور، کمٹہ، انکولہ اور کاروار تعلقہ جات کے تمام اسکولوں میں تعطیل کا اعلان کیا ہے۔

سڑلگی میں چٹان کھسکنے سے سڑک بند
ہوناور تعلقہ کے سڑلگی قصبہ کو جانے والی مرکزی سڑک پر جمعہ شام شدید بارش کے دوران پہاڑی چٹان کھسکنے کا واقعہ پیش آیا، جس کے باعث راستہ مکمل طور پر بند ہوگیا۔ مقامی سماجی کارکن مظفر شیخ کے مطابق سڑلگی میں 250 سے زائد مکانات واقع ہیں اور یہی سڑک ان کا واحد بڑا رابطہ ذریعہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ متبادل راستہ پہلے ہی پانی بھرنے کی وجہ سے بند ہو چکا تھا، اور اب مرکزی سڑک پر چٹان اور مٹی گرنے سے قصبہ کی آمد و رفت معطل ہوگئی ہے۔ واضح رہے کہ سڑلگی، جو ہوناور سے بینگلور جانے والی قومی شاہراہ کے قریب واقع ہے، ہوناور سے تقریباً 25 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

sadalgi-landslide-1

شراوتی ندی میں طغیانی؛ ولکی مسجد کے اطراف پانی جمع
شدید بارش کے نتیجے میں شراوتی ندی میں طغیانی آ گئی ہے اور ندی اپنی حد عبور کر چکی ہے۔ ولکی علاقہ میں مسجد کے آس پاس پانی بھر جانے کے بعد مقامی لوگ آمد و رفت کے لیے کشتیوں کا استعمال کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ندی کا پانی آس پاس کے کھیتوں اور کمپاؤنڈوں میں داخل ہو چکا ہے، جس سے علاقہ تالاب کا منظر پیش کر رہا ہے۔

باسکیری اور ہڈمبال میں گھروں میں پانی داخل؛ عوام پریشان
شراوتی بیلٹ کے دیگرعلاقوں، بالخصوص باسکیری اور ہڈمبال میں بھی گھروں، کھلیانوں، باغات اور کمپاؤنڈوں میں پانی داخل ہو چکا ہے، جس سے مقامی باشندے سخت پریشانی میں مبتلا ہیں۔ مظفر شیخ کے مطابق، ہوناور تحصیلدار اور دیگر افسران نے متاثرہ مقامات کا معائنہ کیا ہے جبکہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فائر بریگیڈ اور دیگر امدادی عملے کو الرٹ رکھا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مُلے گیّدے اسکول کے کمپاؤنڈ میں بھی بھاری مقدار میں پانی جمع ہو چکا ہے، جس پر اطراف کے رہائشیوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔


Share: