تھرونتاپورم ، 31 مئی (ایس او نیوز ) ریاست کیرلہ میں گذشتہ ایک ہفتے سے جاری شدید بارش نے تباہی مچادی ہے، بارش سے جہاں کئی علاقوں میں نظام زندگی درہم برہم ہوگیا ہے،وہیں درجنوں افراد جاں بحق بھی ہوچکے ہیں، ٹرانسپورٹ سسٹم متاثر ہے اور آئندہ مزید موسمی خطرات کے خدشات ظاہر کیے جارہے ہیں۔
ملیالم میڈیا میں چھپی خبروں کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ریاست بھر میں کم از کم 27 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، جن میں سے صرف جمعہ کے روز 8 افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے علاوہ چار افراد لاپتہ ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔
ریاست میں شدید بارش ایک فعال کم دباؤ کے نظام کے زیر اثر ہو رہی ہیں، جس کے باعث وسطی اور شمالی اضلاع میں سب سے زیادہ نقصان دیکھا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے چار اضلاع - کنّور، کاسرگوڑ، ایرناکولم اور الاپّوژہ میں اورنج الرٹ جاری کیا ہے، جبکہ باقی تمام اضلاع میں ییلو الرٹ نافذ ہے۔ اگرچہ آئی ایم ڈی کا کہنا ہے کہ فی الحال انتہائی شدید بارش کا کوئی فوری امکان نہیں، لیکن ریاست میں ہائی الرٹ برقرار رکھا گیا ہے۔
ساحلی علاقوں میں حالات انتہائی تشویشناک ہیں۔ تھرونتاپورم کے قریبی علاقہ وزینجم سے 29 مئی کی شب کو سمندر میں مچھلیوں کا شکار کرنے گئے ہوئے نو ماہی گیر لاپتہ ہوگئے تھے، جن میں سے چار کو کنیاکماری کے قریب تلاش کرلیا گیا ہے، جبکہ بقیہ پانچ افراد کی تلاش جاری ہے۔ خراب موسم اور سمندری طغیانی کے باعث ریسکیو آپریشن میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔
ادھر انڈین ریلوے نے بارش کے باعث ریاست میں متعدد ٹرینوں کی آمد و رفت میں شدید تاخیر کی تصدیق کی ہے۔ تاخیر سے متاثرہ ٹرینوں میں میسور-تھرواننتاپورم ایکسپریس، گورکھپور-راپتی ساگر ایکسپریس، بنگلورو-تھرواننتاپورم اسپیشل اور چنئی-گُرووایور ایکسپریس شامل ہیں، جن کی روانگی میں 30 منٹ سے 4.5 گھنٹے تک کی تاخیر دیکھی گئی۔ وندے بھارت ایکسپریس منگلورو سے تھرواننتاپورم کے لیے ڈیڑھ گھنٹے کی تاخیر سے روانہ ہوئی۔
متاثرہ علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا ہے، سڑکیں زیرِ آب ہیں اور پہاڑی اضلاع جیسے اِڈُکّی اور وایناڈ میں لینڈ سلائیڈنگ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ حکومت نے اِڈُکّی، کلرکُٹّی، ملنکارہ اور پرِنگل کُتو میں ڈیم کے دروازے کھول دیے ہیں، جس سے نچلے علاقوں میں سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ نشیبی علاقوں کے رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے، اور ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں جہاں کھانا، پینے کا صاف پانی اور طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ پنارائی وجیّن نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔ تمام اضلاع میں کنٹرول رومز فعال کر دیے گئے ہیں، جبکہ نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (NDRF) کی ٹیمیں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
محکمہ موسمیات نے آئندہ چند روز میں بارش کے تسلسل کی پیش گوئی کی ہے۔ اگر بارش اسی شدت سے جاری رہیں تو مزید ڈیم کے دروازے کھولے جانے کا امکان ہے۔ کئی اضلاع میں اسکولز کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے اور ماہی گیروں کو سمندر میں نہ جانے کی ہدایت دی گئی ہے۔