
نئی دہلی 22/اکتوبر(ایس او نیوز) گیانیش کمار کے خلاف جیسے جیسے عوام کا غصہ بڑھتا جارہا ہے، ویسے ہی بی جے پی سے وابستہ رہنے والے رہنما بھی ایس آئی آر (SIR) کو لے کر الیکشن کمیشن اور مرکزی حکومت کے خلاف آواز اٹھانے لگے ہیں۔ دو روز قبل ہی تمل ناڈو بی جے پی کے سابق صدر کے اناملائی نے کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے احتجاجیوں کے خلاف پولیس کارروائی، گرفتاریوں اور جنتر منتر کو احتجاجی مقامات کی فہرست سے خارج کرنے پر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اب مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارامن کے شوہر اور معروف ماہرِ معاشیات پرکلا پربھاکر نے 23 اکتوبر کو منعقد ہونے والے ملک گیر احتجاج میں شرکت کا اعلان کیا ہے، جس میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف کارروائی، ایس آئی آر کی منسوخی، اہل ووٹروں کے حذف شدہ ناموں کی بحالی اور انتخابی اصلاحات کے مطالبات کیے جائیں گے۔
یاد رہے کہ اس مہم کو ’پیپلز مارچ ٹو ریکلیم ڈیموکریسی‘ کا نام دیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، پرکلا پربھاکر کے علاوہ اداکار و سماجی کارکن پرکاش راج، سینئر وکیل پرشانت بھوشن، کسان رہنما راکیش ٹکیت، کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے اور دیگر سماجی کارکنوں کی بھی احتجاج میں شرکت متوقع ہے۔ اتحاد نے اپوزیشن جماعتوں سے بھی اس مہم میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔
احتجاجی اتحاد کا دعویٰ ہے کہ ایس آئی آر کے ذریعے 13.41 کروڑ شہریوں کے حقِ رائے دہی کو نقصان پہنچا ہے۔ اتحاد نے مطالبہ کیا ہے کہ ووٹر لسٹوں کا آزادانہ آڈٹ کیا جائے، اہل ووٹروں کے نام بحال کیے جائیں اور الیکشن کمشنروں کی تقرری سے متعلق قانون میں تبدیلی لائی جائے۔
اس کے علاوہ پرکلا پربھاکر نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے ساتھ پورے الیکشن کمیشن کو تحلیل کرکے نئے سرے سے تشکیل دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔