نئی دہلی، 29/ مئی (ایس او نیوز /ایجنسی) دہلی ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس یشونت ورما کے گھر سے برآمد ہونے والی جلی ہوئی بڑی مقدار میں نقدی کا معاملہ مسلسل خبروں میں بنا ہوا ہے۔ اس سلسلے میں سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل دی گئی تفتیشی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں جسٹس ورما پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف مواخذے کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جسٹس ورما اپنے پاس موجود نقدی کے ذرائع کے بارے میں کوئی تسلی بخش یا واضح وضاحت پیش نہیں کر سکے۔
قابل ذکر ہے کہ جسٹس یشونت ورما کے گھر پر 14 مارچ کو آگ لگنے کے بعد ایک اسٹور روم میں تقریباً 1.5 فیٹ اونچی کئی بنڈل میں نصف جلی ہوئی نقدی بکھرے پائے گئے تھے۔ یہ نقدی اتنی مقدار میں تھا کہ اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔ جانچ کمیٹی نے پایا کہ اسٹور روم پر صرف جسٹس ورما اور ان کے کنبہ کا ہی کنٹرول تھا، اور کوئی باہری شخص وہاں نہیں پہنچ سکتا تھا۔
جسٹس ورما نے منفی رویہ ظاہر کرتے ہوئے اپنے اوپر لگے الزامات کو سرے سے خارج کر دیا اور سازش کی بات کہی، لیکن ان کا جواب مناسب نہیں پایا گیا۔ جانچ کے مطابق ان کا اسٹاف نقدی کو اسٹور روم سے ہٹانے میں شامل تھا۔ فورنسک رپورٹ نے نقد کی موجودگی کی تصدیق بھی ہوئی۔ جسٹس ورما سے کمیٹی نے پوچھ تاچھ کے دوران استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا، لیکن انھوں نے استعفیٰ دینے سے انکار کر دیا تھا۔
کمیٹی کی جانچ کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ جسٹس ورما کے پرسنل سکریٹری راجندر سنگھ کارکی نے اس رات جج کو لگاتار فون کیے اور آگ کے واقعہ کی جانکاری دی۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے انھیں الٰہ آباد ہائی کورٹ میں ٹرانسفر کیا ہے، لیکن ابھی تک انھیں کوئی ذمہ داری نہیں دی گئی ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ اس معاملے میں جسٹس ورما کے خلاف ابھی تک ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے۔ دہلی پولیس نے ایف آئی آر نہ درج کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ موجودہ اصولوں کے تحت ایک فعال جج کے خلاف ایف آئی آر درج کرنا ممکن نہیں ہے۔ جانچ کمیٹی نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ جسٹس ورما کے خلاف الزامات سنگین ہیں اور یہ ان کے مواخذہ کے لیے کافی ہیں۔