منڈگوڈ ، 3 / جنوری (ایس او نیوز) روزانہ ممبئی پولیس کے نام پر ڈیجیٹل اریسٹ کا خوف دلا کر انجام دی گئی دھوکہ دہی کی ایک واردات میں تبتی کالونی میں مقیم ایک ریٹائرڈ ٹیچر کو 1.61 کروڑ رپوں کا چونا لگایا گیا۔
اطلاع کے مطابق فراڈ کا شکار ہونے والے شخص کا نام پلدین لوبسنگ چوڑاک بتایا گیا ہے، جو کہ تبتی کالونی کے کیمپ نمبر 8 میں رہتا ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ 29 نومبر 2025 کو ایک خاتون نے لوبسنگ کو وہاٹس ایپ کال کرکے بتایا کہ ممبئی کولوا پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر ان سے بات کرنا چاہتا ہے ۔ اسی کے ساتھ کال پر ایک شخص نمودار ہوا اور اس نے بتایا کہ ممبئی میں ایک دہشت گرد لیڈر کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کے پاس سے بازیافت ہونے والے 250 اے ٹی ایم کارڈز میں کینرا بینک کا اے ٹی ایم کارڈ بھی ہے جو لوبسنگ کے نام پر ہے ۔ اس کھاتے میں کروڑوں روپوں کا لین دین ہوا ہے ۔ پھر اس نام نہاد انسپکٹر نے لولسنگ کو ڈراتے دھمکاتے ہوئے اسے ڈیجیٹل اریسٹ کرنے کی خبر دی اور اس کے کھاتے سے مرحلہ وار 1.61 کروڑ روپے دوسرے کھاتوں میں ٹرانسفر کروائے۔
لولسنگ کا کہنا ہے کہ ویڈیو کال کے موقع پر فریب کار پولیس یونیفارم پہنے ہوئے تھے اور اپنے چہرے پر ماسک لگائے ہوئے تھے جبکہ پس منظر میں پولیس اسٹیشن کا ماحول نظر آرہا تھا۔ دھوکہ بازوں نے لولسنگ کے نام پر کروڑوں روپے کا مبینہ لین دین ہونے کی بینک کی نقلی تفصیلات بھی اسے بھیجی تھیں تا کہ اسے اس جھوٹ پر سچ کا یقین ہو جائے۔
متاثرہ وظیفہ یاب ٹیچر نے مزید بتایا کہ جب اس نے فریب کاروں کو یہ بتایا کہ اس نے اس قسم کا کوئی قصور نہیں کیا ہے تو انہوں نے اس سے کہا کہ تمہارے اکاونٹ میں جو رقم ہے، اسے نیشنل اکاونٹ میں ٹرانسفر کرو، جب تفتیش مکمل ہو جائے گی تو تمہاری رقم لوٹا دی جائے گی۔ اس کے علاوہ دھوکے بازوں نے لولسنگ کو ڈیجیٹل اریسٹ میں رہنے اور کسی سے بھی اس موضوع پر بات نہ کرنے کی تنبیہ کرنے کے ساتھ یہ حکم بھی دیا تھا کہ وہ پولیس اسٹیشن میں ڈیجیٹل حاضری کے طور پر گُڈ مارننگ اور گُڈ ایوننگ کے دو میسیجس روزانہ وہاٹس ایپ پر بھیجتا رہے ۔
لولسنگ نے اس دھمکی کا شکار ہونے کے بعد اپنے کینرا بینک، ایس بی آئی اور کے ڈی سی سی بینکوں میں موجود فکسڈ ڈپازٹس کے علاوہ اپنے جانکاروں سے قرضہ لے کر 3 دسمبر سے اب تک 1,61,0047 روپے دھوکے بازوں کے بتائے ہوئے اکاونٹس میں ٹرانسفر کیے ۔
پلدین لولسنگ کے بیان کے مطابق پھر اس کے بعد فریب کاروں نے اسے فون کرکے بتایا کہ پولیس کی تفتیش مکمل ہوگئی ہے اور اب انفوسمنٹ ڈائریکٹوریٹ والے تمہارے گھر پر تفتیش کے لئے آنے اور تمہیں گرفتار کرنے کا امکان ہے اس لئے مزید 40 لاکھ روپے ٹرانسفر کرو ۔
دھوکے بازوں کا یہ مطالبہ پورا کرنے کے لئے جب اس نے اپنے ایک دوست سے رقم ادھار مانگی تو اس دوست نے بولسنگ کو پریشان دیکھ کر حقیقت بتانے کے لئے اصرار کیا تو پھر بولسنگ نے ساری صورت حال اس کے سامنے رکھ دی ۔ اس کے بعد فراڈ کا احساس ہونے پر اس نے اپنے دوست کے مشورے پر کاروار کے سائبر کرائم پولیس کے پاس شکایت درج کروائی ہے ۔