ہوانا، 26 فروری (ایس او نیوز/ایجنسی):کیوبا کے سرحدی محافظوں نے بدھ کے روز ملک کے علاقائی سمندری حدود میں داخل ہونے والی فلوریڈا میں رجسٹرڈ ایک اسپیڈ بوٹ پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں کم از کم چار افراد ہلاک اور چھ زخمی ہو گئے۔ یہ واقعہ کیوبا کے شمالی ساحل کے قریب صوبہ ولا کلارا کے علاقے میں پیش آیا۔
کیوبا کی وزارتِ داخلہ کے مطابق اسپیڈ بوٹ نے ملکی حدود میں داخل ہونے کے بعد رکنے کے اشارے نظر انداز کیے۔ سرحدی گارڈز جب کشتی کے قریب پہنچے تو مبینہ طور پر کشتی میں سوار افراد نے پہلے فائرنگ کی۔ اس کے بعد فورسز نے جوابی کارروائی کی، جس میں چار افراد موقع پر ہلاک ہو گئے جبکہ چھ زخمی حالت میں گرفتار کر لیے گئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ جاری ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق کشتی سے اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر مشتبہ سامان بھی برآمد ہوا ہے۔ کیوبا حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ محض غیر قانونی داخلہ نہیں بلکہ ممکنہ طور پر مسلح کارروائی کی کوشش تھی۔
خبر رساں ادارے Reuters کے مطابق واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور ہلاک ہونے والوں کی شہریت کی باضابطہ تصدیق ابھی باقی ہے۔
اسی طرح Al Jazeera نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ کشتی فلوریڈا میں رجسٹرڈ تھی، جس کے بعد اس واقعے نے امریکہ اور کیوبا کے درمیان سفارتی توجہ حاصل کر لی ہے۔
امریکہ کے حکام نے کہا ہے کہ وہ واقعے کی تفصیلات حاصل کر رہے ہیں۔ ابتدائی بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکومت اس کارروائی میں ملوث نہیں تھی، تاہم اگر کشتی امریکی رجسٹریشن کی حامل ہے تو معاملے کی مکمل جانچ کی جائے گی۔
برطانوی اخبار The Guardian کے مطابق یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب دونوں ممالک کے تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں، خاص طور پر پابندیوں اور سیاسی اختلافات کے باعث۔
کیوبا اور امریکہ کے درمیان دہائیوں سے سیاسی کشیدگی موجود ہے۔ ماضی میں بھی ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں جب کشتیوں کے ذریعے غیر قانونی داخلے یا اسمگلنگ کی کوششوں پر سخت کارروائی کی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات میں مسلح کارروائی کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ معاملہ مزید سفارتی تناؤ کا سبب بن سکتا ہے۔
کیوبا حکام نے کہا ہے کہ وہ اپنی علاقائی حدود کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے۔ دوسری جانب امریکی حکام بھی واقعے کی مکمل تفصیلات سامنے آنے کا انتظار کر رہے ہیں۔
واقعے کی مزید معلومات، ہلاک شدگان کی شناخت اور ممکنہ سفارتی ردعمل کے بارے میں آئندہ دنوں میں مزید وضاحت متوقع ہے۔