ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / این ایس یو آئی کا تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ، طلبہ کی تجاویز پر ’ایجوکیشن چارٹر‘ لانے کا اعلان

این ایس یو آئی کا تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ، طلبہ کی تجاویز پر ’ایجوکیشن چارٹر‘ لانے کا اعلان

Tue, 07 Jul 2026 10:58:16    S O News

نئی دہلی ، 7/ جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی)  کانگریس کی طلبہ وِنگ نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا(این ایس یو آئی) نے ایک بار پھر مودی حکومت، بی جے پی اور آر ایس ایس کو آڑے ہاتھوں لیا۔  کانگریس کے مرکزی دفتر میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے این ایس یو آئی کے انچارج کنہیا کمار اور قومی صدر ونود جاکھڑنے کہا کہ تعلیمی نظام میں وسیع اصلاحات، امتحانات اور بھرتیوں کیلئے باقاعدہ کیلنڈر لاگو  کیا جانا چاہئے اور اس کے ساتھ ہی پیپر لیک معاملے میں وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو فوری طورپر استعفیٰ بھی دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اس کیلئے ہماری تحریک جاری رہے گی۔

کنہیا کمار نے کہا کہ مرکزی حکومت نے ملک کے تعلیمی نظام کو بدحال کر دیا ہے۔ اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات نہیں ہو رہے ہیں، یونیورسٹیوں میںبی جے پی اورآر ایس ایس سے وابستہ افراد کی من مانی چل رہی ہے۔ انہوں نے طلبہ کی تجاویز کی بنیاد پر تعلیمی پالیسی میں تبدیلی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا میںاپوزیشن لیڈر راہل گاندھی ملک بھر کے طلبہ، اساتذہ اور سرپرستوں سے بات چیت کر رہے ہیں اور ان کی تجاویز کی بنیاد پر کانگریس جلد ہی ایک’ایجوکیشن چارٹر‘ تیار کرے گی۔ 

کنہیا کمار نے پارٹی کے اس مطالبے کو دہرایا کہ مرکزی  وزیر  تعلیم دھرمیندر پردھان فوری طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں اور پیپر لیک مافیا کے ساتھ ان کے روابط کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائے۔انہوں نے ملک کے تعلیمی نظام کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یو پی اے حکومت نے اس مقصد کیلئے ایک کمیٹی قائم کی تھی، لیکن این ڈی اے حکومت نے من مانی کرتے ہوئے این ٹی اے قائم کر دیا، جس کی وجہ سے افراتفری پھیل گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے نوجوانوں کیلئے باقاعدہ ملازمت کا کیلنڈر بھی جاری کیا جانا چاہئے اور بروقت بھرتی اور امتحانی عمل کو یقینی بنانے کیلئے اکیڈمک کیلنڈر بھی جاری کیا جانا چاہئے۔

اس موقع پر این ایس یو آئی کے قومی سربراہ ونود جاکھڑ نے کہا کہ بی جے پی اورآر ایس ایس کو کالج اور یونیورسٹی کیمپس میں اپنی آمریت برقرار رکھنے کی سازش کے تحت پورے ملک میں طلبہ یونین کے انتخابات بند کر دیئے گئے ہیں۔ انہوں نے دہلی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو دی گئی مسلسل توسیع پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی طالب علم آواز اٹھاتا ہے تو اسے قانونی چارہ جوئی کی دھمکیاں دی جاتی ہیں جبکہ ایک مخصوص نظریئے کے حامل افراد کو تعلیمی اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر مسلسل ترقیاں دی جا رہی  ہیں۔

اس موقع پرمیڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کنہیا کمار اور ونود جاکھڑ نے این ایس یو آئی کے آئندہ کا لائحہ عمل بھی بیان کیا۔ انہوں نےملک بھر میں جمہوری بنیادوں پر تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کیلئے داخلی انتخابات کا اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کانگریس قیادت نے ملک بھر میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کی نگرانی کرتے ہوئے این ایس یو آئی کے اندر داخلی انتخابات کرانے کیلئے ایک سینٹرل الیکشن اتھارٹی تشکیل دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کالج، یونیورسٹی، ضلع اور ریاستی اکائیوں کے صدور اور کمیٹیوں کا انتخاب اب دو مرحلوں میں ہوگا۔ پہلے مرحلے میں کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر صدور اور کمیٹیوں کا انتخاب کیا جائے گا، جبکہ دوسرے مرحلے میں ضلع اور ریاستی اکائیوں کے صدور اور کمیٹیوں کا انتخاب کیا جائے گا۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ رکنیت اور الیکشن لڑنے کیلئےہندوستانی شہری ہونے کے ساتھ ایک طالب علم کی عمر ۱۶؍ تا ۲۷؍سال ہونی چاہئے جس کو ہندوستانی آئین پر یقین ہو۔ رکنیت کیلئے کالج کی شناخت اور آدھار کارڈ لازمی ہے۔ رکنیت کی فیس تین سال کیلئے ۴۵؍ روپے مقرر کی گئی۔ شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے یہ پورا عمل آن لائن اور ایپ پر مبنی ہوگا۔ ضلع اور ریاستی صدر کے عہدوں کیلئے  انتخاب لڑنے والا کوئی بھی شخص پہلے کالج یا یونیورسٹی کے صدر کے عہدے پر فائز ہو گا۔


Share: