چتردرگہ 26 ڈسمبر (ایس او نیوز): کرناٹک کے چتردرگہ ضلع کے ہیریور تعلقہ میں گورلتو گاؤں کے قریب پیش آئے خوفناک سڑک حادثے میں جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ کر سات ہوگئی ہے۔ حادثے میں شدید زخمی ہونے والے نجی بس کے ڈرائیور محمد رفیق (42) علاج کے دوران جانبر نہ ہو سکے۔
اطلاعات کے مطابق بنگلورو سے گوکرن جا رہی سی برڈ ٹراویلس کی سلیپر بس کو بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب تقریباً 2 بجے کے قریب گورلتو کراس کے پاس ایک تیز رفتار کنٹینر لاری نے ڈیوائیڈر عبور کرکے زور دار ٹکر مار دی تھی۔ ٹکر کے فوراً بعد بس میں آگ بھڑک اٹھی اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری بس جل کر خاکستر ہوگئی۔
حادثے میں بس کے ڈرائیور محمد رفیق، جو ہاویری ضلع کے شگگاؤں کے رہنے والے تھے، شدید طور پر جھلس گئے تھے۔ انہیں فوری طور پر پہلے ہریور پھرچتردرگہ اسپتال لے جایا گیا تھا، پھر خراب حالت کو دیکھتے ہوئے اُنہیں ہبلی کے کیمس اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب علاج کے دوران ان کا انتقال ہوگیا۔ ان کی موت کے بعد حادثے میں مرنے والوں کی مجموعی تعداد سات تک پہنچ گئی ہے۔
Click here for report in English
اس حادثے میں اس سے قبل بندھو، ان کی پانچ سالہ بیٹی گریا، مانسا، نویا، رشمی اور کنٹینر لاری ا ڈرائیورکلدیپ یادو جاں بحق ہو ئے تھے۔
زخمیوں کا علاج جاری
حادثے میں زخمی ہونے والے دیگر افراد کا علاج جاری ہے۔ بنگلورو کے وکٹوریہ اسپتال کے برن وارڈ (جلنے کے مریضوں کا خصوصی وارڈ) میں منجوناتھ، دیویکا اور کیرتھن زیرِ علاج ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق منجوناتھ کی حالت تشویشناک ہے اور انہیں آئی سی یو میں رکھا گیا ہے، جبکہ دیویکا اور کیرتھن کو جلد اسپتال سے ڈسچارج کیے جانے کا امکان ہے۔
پولیس کے مطابق کنٹینر لاری ڈرائیور کی تیز رفتاری اور لاپروائی اس دل دہلا دینے والے حادثے کی بنیادی وجہ بنی۔ واقعے کے بعد وزیر اعلیٰ سدارامیا نے جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ کے لیے فی کس 5 لاکھ روپے جبکہ مرکزی حکومت کی جانب سے 2 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔