ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / چتردرگہ بس حادثے میں مرنے والوں میں بھٹکل کی نوجوان لڑکی بھی شامل؛ جملہ چھ افراد کی موت

چتردرگہ بس حادثے میں مرنے والوں میں بھٹکل کی نوجوان لڑکی بھی شامل؛ جملہ چھ افراد کی موت

Thu, 25 Dec 2025 17:48:32    S O News
چتردرگہ بس حادثے میں مرنے والوں میں بھٹکل کی نوجوان لڑکی بھی شامل؛ جملہ چھ افراد کی موت

بھٹکل 25 / دسمبر(ایس او نیوز) بینگلورو سے کمٹہ  تعلقہ کے معروف سیاحتی مقام گوکرن جانے والی پرائیویٹ بس کا بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب کو پیش آئے حادثے میں جن لوگوں کی موت واقع ہوئی ہے، اُس میں بھٹکل کے شرالی کی نوجوان خاتون بھی شامل ہے، جس کی شناخت 24 سالہ رشمی مہالے کے طور پر کی گئی ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ رشمی مہالے گزشتہ ایک سال سے بنگلورو کی ایک سوفٹ وئیر کمپنی  کے اکاؤنٹس ڈپارٹمنٹ میں ملازمت کر رہی تھی۔ وہ کرسمس کی چھٹی کے موقع پر اپنی دو سہیلیوں کے ساتھ گوکرن جانے کے لیے بنگلورو سے روانہ ہوئی تھی۔

یہ حادثہ چترادرگہ ضلع کے ہیریور تعلقہ کے مضافاتی علاقہ جواناگونڈن ہلّی میں رات تقریباً دو بجے پیش آیا۔ پولیس کے مطابق ہیریور سے بنگلورو کی طرف جانے والا ایک کنٹینر بے قابو ہو کر روڈ ڈیوائیڈر عبور کرتے ہوئے غلط سمت میں آ گیا اور بنگلورو سے گوکرن جانے والی ایک پرائیویٹ بس سے ٹکرا گیا۔ پولیس نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ کنٹینر ڈرائیور کو نیند کا جھونکا آیا ہوگا، جس کے باعث وہ کنٹرول کھو بیٹھا اور ڈیوائیڈر عبور کر کے غلط سمت میں چلا گیا۔ ٹکر کے فوراً بعد بس میں آگ لگ گئی، جس سے مسافروں میں شدید افراتفری مچ گئی۔

حادثے کے بعد ابتدائی طور پر 17 اور پھر 9 افراد کی موت کی اطلاعات سامنے آئیں، تاہم آگ پر قابو پانے اور ریسکیو کارروائی مکمل ہونے کے بعد پولیس نے تصدیق کی ہے کہ بس کے اندر سے ایک کمسن بچی سمیت پانچ نعشیں برآمد ہوئی ہیں، جبکہ بس کو ٹکر مارنے والا کنٹینر ڈرائیور بھی حادثے میں ہلاک ہو گیا۔ اس طرح اس حادثے میں جملہ چھ افراد کی جان چلی گئی۔

چتردرگہ کے ہیریور مضافاتی پولس تھانہ کے ایک اہلکار کے مطابق دو نعشیں اس قدر جھلس چکی ہیں کہ ان کی فوری شناخت ممکن نہیں ہو سکی، چونکہ بھٹکل کے شرالی اور چنا رائے پٹنا کی رہائشی نویا دونوں لاپتہ ہیں، اس بنا پرسمجھا جارہا ہے  کہ یہ نعشیں ان ہی کی ہیں۔ دونوں کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد ہی ممکن ہو سکے گی۔

دیگر مہلوکین کی شناخت بنگلورو کی رہائشی بیندو، اس کی پانچ سالہ معصوم بیٹی گریما، چنّا رائے پٹنا کی مانسا اور کنٹینر ڈرائیور ہریانہ کے رہائشی کلدیپ یادو کے طور پر کی گئی ہے۔

ہیریور کے ایک ایمبولنس ڈرائیور احمد نے ساحل آن لائن سے فون پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ بس میں ڈرائیور، کلینر اور ایک بچی سمیت جملہ 32 افراد سوار تھے۔ ان میں سے 25 مسافروں کو مختلف اسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے، جبکہ دو معمولی زخمی افراد ابتدائی مرہم پٹی کے بعد اپنے گھروں کو روانہ ہو چکے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ شدید زخمی دو افراد کو بنگلورو کے وکٹوریا اسپتال منتقل کیا گیا ہے، جبکہ دیگر زخمیوں کا علاج ہیریور کے سرکاری اسپتال اور ٹمکور ضلع کے شیرا اسپتال میں جاری ہے۔

ایمبولنس ڈرائیور کے مطابق تمام مہلوکین کی نعشوں کو چتردرگہ سرکاری اسپتال کے مردہ خانے منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں پوسٹ مارٹم کے بعد نعشیں لواحقین کے حوالے کی جائیں گی۔

شیرالی کی رشمی مہالے کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ اپنی دو سہیلیوں گگن اور رکشیتا کے ساتھ گوکرن جانے کے لیے بس میں سوار ہوئی تھی۔ حادثے کے بعد آگ لگنے پر دونوں سہیلیاں بس سے باہر چھلانگ لگا کر اپنی جان بچانے میں کامیاب ہو گئیں، تاہم افراتفری کے دوران رشمی لاپتہ ہو گئی۔ شرالی میں رشمی کے اہل خانہ نے بتایا کہ حادثے کے بعد سے اس کی طرف سے کوئی فون نہیں آیا اور اس کا موبائل فون مسلسل سوئچ آف آ رہا ہے۔  بتایا گیا ہے کہ بس میں سوار تمام مسافر بنگلورو سے گوکرن جا رہے تھے، جبکہ رشمی گوکرن پہنچنے کے بعد بھٹکل جانے والی تھی۔

دو نعشوں کی فوری شناخت نہ ہونے کے باعث ابتدا میں یہ گمان کیا جا رہا تھا کہ رشمی اور نویا حادثے میں بچ گئی ہوں گی اور کسی اسپتال میں زیر علاج ہوں گی۔ اسی شبہ کے تحت دونوں کے اہل خانہ انتہائی پریشانی کے عالم میں مختلف اسپتالوں میں ان کی تلاش کرتے رہے۔ بھٹکل میں رشمی کے اہل خانہ کسی اطلاع کے نہ ملنے پر سخت تشویش میں مبتلا رہے، جبکہ نویا کے والد منجپّا اور والدہ اپنی بیٹی کی تصاویر دکھا کر لوگوں سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ بعد ازاں دونوں کی گمشدگی کو دیکھتے ہوئے پولس اس نتیجے پر پہنچی کہ جن دو نعشوں کی شناخت نہیں ہوئی ہے، یہ نعشیں اُن ہی کی ہوسکتی ہیں۔
   
نویا کے والدین نے بتایا کہ 28 اپریل کو نویا کی شادی طے تھی، جس کی تیاریوں سے قبل اس نے گوکرن جا کر آنے کی خواہش ظاہر کی تھی، اسی لیے وہ اس بس کے ذریعے گوکرن روانہ ہوئی تھی۔

حادثے کے تعلق سے ہیریور مضافاتی پولس تھانہ میں معاملہ درج کیا گیا ہے اور پولس مزید چھان بین کررہی ہے۔

Click here for report in English


Share: