ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / بہار میں بڑھتے جرائم پر کھرگے کا حملہ ، نتیش حکومت کو ٹھگوں کا گٹھ بندھن قرار دیا

بہار میں بڑھتے جرائم پر کھرگے کا حملہ ، نتیش حکومت کو ٹھگوں کا گٹھ بندھن قرار دیا

Tue, 08 Jul 2025 17:06:06    S O News

نئی دہلی ، 8/ جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی)بہار میں کاروباری گوپال کھیمکا کے قتل اور پورنیہ میں جادو ٹونا کے شبہ میں پانچ افراد کو زندہ جلانے کے دل دہلا دینے والے واقعے نے ریاست کی نظم و نسق پر گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایک طرف تاجر طبقہ صدمے میں ہے، تو دوسری جانب عوام اور حزب اختلاف کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے بہار کی حکمراں جے ڈی یو-بی جے پی حکومت پر سخت تنقید کی اور کہا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران آٹھ تاجروں کو قتل کر دیا گیا، جبکہ پانچ بار پولیس اہلکاروں کو بھی عوامی غصے کا سامنا کرتے ہوئے پٹائی کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ کل ہی پورنیہ میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کو توہم پرستی کی بنیاد پر جادو ٹونا کرنے والے قرار دے کر زندہ جلا دیا گیا، جن میں معصوم بچے بھی شامل تھے۔

کھرگے نے جے ڈی یو اور بی جے پی کے اتحاد کو ’ٹھگ بندھن‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان دونوں جماعتوں نے مل کر بہار کو ملک کی ’کرائم کیپیٹل‘ بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کے اپنے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ بہار میں غربت اپنی انتہا پر ہے، جبکہ سماجی اور اقتصادی انصاف کی صورت حال دن بہ دن بدتر ہوتی جا رہی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بہار میں قانون کا نظام مفلوج ہو چکا ہے، جس کے سبب ریاست میں سرمایہ کاری صرف فائلوں اور تقریروں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ کھڑگے کا کہنا تھا کہ ریاست کے عوام اب بیدار ہو چکے ہیں اور اس بار بہار نے طے کر لیا ہے کہ وہ مزید ’بیمار‘ نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ انڈیا اتحاد بہار میں تبدیلی لا کر رہے گا، کیونکہ عوام اب ٹھوس تبدیلی چاہتے ہیں۔

دریں ثنا، گوپال کھیمکا کے قتل پر تاجر برادری میں خوف کا ماحول ہے۔ ان کے اہل خانہ اور مقامی تاجروں نے بہار حکومت سے قاتلوں کی فوری گرفتاری اور تحفظ کی یقین دہانی کا مطالبہ کیا ہے۔ پورنیہ کے واقعے نے بھی انسانی سماج کے اندر جڑیں پکڑتی توہم پرستی اور حکومت کی ناکامی کو بے نقاب کر دیا ہے، جہاں معمولی شک کی بنیاد پر ایک پورے خاندان کو زندہ جلایا گیا اور پولیس کچھ نہ کر سکی۔

ان پے در پے وارداتوں نے ریاست کی قانون و انتظامیہ پر اعتماد کو شدید دھچکہ پہنچایا ہے۔ اپوزیشن اور عوام دونوں حکومت سے جوابدہی چاہتے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ بہار کو خوف، غربت اور بے یقینی سے نکالنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔


Share: