بھٹکل 11/جولائی (ایس او نیوز): اُترکنڑا ضلع کے بھٹکل تعلقہ کے سرحدی گاؤں ہاڈولّی، جو شیموگہ ضلع کے ساگر تعلقہ سے متصل ہے، میں تعلیم کا سفر ایک خستہ حال سرکاری اسکول کے سائے تلے جاری ہے۔ تقریباً چھ دہائیوں سے نسل در نسل طلبہ کو تعلیم فراہم کرنے والا گورنمنٹ ہائر پرائمری اسکول اب شدید خستہ حالی کا شکار ہو چکا ہے۔ عمارت کی دیواروں میں گہری دراڑیں پڑ چکی ہیں، چھت سے بارش کا پانی ٹپکتا ہے اور فرش جگہ جگہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، جبکہ نئی عمارت کی تعمیر کے لیے برسوں قبل بھیجی گئی تجویز اب تک حکومتی منظوری کی منتظر ہے۔
ہاڈولّی، جو ملکہ رانی چنّابھیرادیوی کے دورِ حکومت میں "سنگیت پورا" (موسیقی کا گاؤں) کے نام سے جانا جاتا تھا، آج اپنی اس تاریخی شناخت سے بہت دور جا چکا ہے۔ یہاں کے بیشتر مکین آج بھی زراعت اور باغبانی پر انحصار کرتے ہیں، تاہم دیگر علاقوں کے والدین کی طرح ان کی بھی خواہش ہے کہ ان کے بچے معیاری تعلیم حاصل کرکے بہتر مستقبل تعمیر کریں۔ لیکن گاؤں کے واحد سرکاری اسکول کی ابتر حالت والدین اور اساتذہ دونوں کے لیے باعثِ تشویش بن چکی ہے۔

یکم سے ہفتم جماعت تک تعلیم فراہم کرنے والے اس اسکول میں اس وقت 72 طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ سرحدی علاقے میں واقع ہونے کے باوجود یہاں دو لسانی تعلیمی نظام رائج ہے اور انگریزی زبان کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ اسکول میں دو کنٹریکٹ اساتذہ سمیت چار اساتذہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ محلِ وقوع کے باعث شیموگہ ضلع کے ساگر تعلقہ کے قریبی دیہات کے بچے بھی اسی اسکول میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ ادارہ دونوں اضلاع کے سرحدی علاقوں کے طلبہ کے لیے ایک اہم تعلیمی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔
اسکول کی تقریباً 60 سال پرانی عمارت میں پانچ کمرے ہیں، جن میں سے بیشتر کی دیواروں میں نمایاں دراڑیں پڑ چکی ہیں۔ برسات کے موسم میں چھت سے پانی رس کر کلاس رومز میں داخل ہوتا ہے، جس سے نہ صرف تدریسی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں بلکہ طلبہ اور اساتذہ کی سلامتی پر بھی سنگین خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ دو کمروں کی عارضی طور پر شیٹ لگا کر مرمت کی گئی ہے، تاہم باقی کمرے بدستور خستہ حالی کا شکار ہیں۔ ہیڈ ماسٹر کا دفتر بھی اسی طرح کی ساختی خرابیوں سے متاثر ہے، جبکہ کلاس رومز کے فرش جگہ جگہ اکھڑ چکے ہیں اور ان میں گڑھے بن گئے ہیں، جو بچوں کے لیے مزید خطرات پیدا کر رہے ہیں۔
مسئلہ صرف کلاس رومز تک محدود نہیں۔ اسکول کے احاطے کی حالت بھی انتہائی خراب ہے اور خصوصاً برسات کے موسم میں کیچڑ اور ٹوٹی ہوئی زمین کے باعث طلبہ، بالخصوص کم عمر بچوں، کو چلنے پھرنے میں دشواری پیش آتی ہے۔

اسکول کی نئی عمارت کی تعمیر کے لیے حکومت کو تجویز ارسال کیے جانے کے باوجود اب تک منظوری نہیں ملی ہے۔ دوسری جانب مڈ ڈے میل تیار کرنے والا باورچی خانہ بھی خستہ حالی کا شکار ہو چکا ہے۔ بارش کے پانی سے بچاؤ کے لیے عملہ چھت پر ترپال بچھا کر اسے ناریل کی شاخوں اور دیگر مقامی سامان سے ڈھانپنے پر مجبور ہے تاکہ بچوں کے لیے کھانا تیار کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جا سکے۔
اساتذہ نے اسکول کی موجودہ صورتحال پر ریکارڈ پر بات کرنے سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے پر عوامی سطح پر کوئی تبصرہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ ان کی یہ خاموشی ایک طرف عملے کو درپیش مجبوریوں کی عکاسی کرتی ہے تو دوسری جانب طلبہ کی سلامتی سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات کو بھی اجاگر کرتی ہے۔
اسکول کے ساتھ قائم آنگن واڑی مرکز کی عمارت بھی شدید دراڑوں کے باعث غیر محفوظ قرار دی جا چکی تھی۔ تقریباً چھ ماہ قبل آنگن واڑی کو اسکول کے احاطے میں نسبتاً اونچی جگہ پر تعمیر کیے گئے ایک نئے کمرے میں منتقل کر دیا گیا۔ آنگن واڑی کی مستقل نئی عمارت کے لیے بھی حکومت کو تجویز بھیجی جا چکی ہے، تاہم اس کی منظوری بھی تاحال زیرِ التوا ہے۔
ہاڈولّی کے مکینوں کے لیے یہ اسکول محض ایک سرکاری ادارہ نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کی بنیاد ہے۔ لیکن جب تک نئی عمارت کی منظوری اور تعمیر عمل میں نہیں آتی، تب تک اس گاؤں کے درجنوں بچے ایسی خستہ حال عمارت میں تعلیم حاصل کرتے رہیں گے جہاں محفوظ تعلیمی ماحول اب بھی ایک ادھورا خواب بنا ہوا ہے۔