بھٹکل، 19 جولائی (ایس او نیوز): بھٹکل کے قدیم اور تاریخی محلوں سے گزرنے والی سرابی ندی کو ڈیڑھ سے دو میٹر تک گہرا کرنے، ندی میں گری ہوئی مٹی، کیچڑ اور کانٹے دار درختوں کی صفائی کا کام مانسون کے اختتام کے فوری بعد شروع ہونے کی توقع ہے، کیونکہ اس کام کے لیے حکومتِ کرناٹک کی جانب سے 10 کروڑ روپئے منظور ہو چکے ہیں۔ اسی سلسلے میں، ندی کی موجودہ حالت کا جائزہ لینے اور یہ طے کرنے کے لیے کہ کن کاموں کو اولین ترجیح دی جائے، محکمۂ چھوٹی آبپاشی، کاروار کی ایک ٹیم آج سنیچر کو بھٹکل پہنچی اور معائنہ کیا۔
کاروار سے تشریف فرما محکمہ چھوٹی آبپاشی کے اسسٹنٹ ایکزی کوٹیو انجینئر پرشانت اور افسر رجنی نے، بھٹکل کا سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم کے ذمہ داران سمیت، بھٹکل ٹاؤن میونسپالٹی کے کونسلرس اور سرابی ندی ہوراٹا سمیتی کے ذمہ داران کے ہمراہ غوثیہ اسٹریٹ، خلیفہ اسٹریٹ، ڈارنٹا اور ڈونگرپلی کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ندی کی صفائی اور دیگر مجوزہ ترقیاتی کاموں کی منصوبہ بندی کے سلسلے میں ذمہ داران سے رائے و مشورہ کیا گیا۔

یاد رہے کہ سرابی ندی کی صفائی کا مطالبہ لے کر گزشتہ سال سرابی ندی ہوراٹا سمیتی کی جانب سے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا تھا، جبکہ تنظیم کے ایک وفد کے ساتھ ہوراٹا سمیتی کے نمائندوں نے بھٹکل رکن اسمبلی اور اُترکنڑا ڈسٹرکٹ انچارج منسٹر منکال وئیدیا سے ملاقات کرتے ہوئے سرابی ندی کی صفائی کے لیے فنڈ کی منظوری کی درخواست کی تھی۔ منکال وئیدیا کی کوششوں کے نتیجے میں ندی کی صفائی کے لیے دس کروڑ روپئے منظور کیے گئے ہیں۔ تاہم محکمہ چھوٹی آبپاشی کا ماننا ہے کہ ندی کی مکمل صفائی، کناروں پر پچنگ اور بیریج کی تعمیر جیسے اہم کاموں کے لیے یہ رقم ناکافی ہے۔
تنظیم کی طرف سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈوکیٹ عمران لنکا نے اسسٹنٹ ایکزی کوٹیو انجینئر سی این پرشانت کو بتایا کہ چوتنی سے لے کر بندر ، بحر عرب تک پھیلی ہوئی تقریباً پانچ کلو میٹر طویل سرابی ندی میں مٹی، کیچڑ اور جھاڑ جھنکار بھر چکا ہے۔ اُن کے مطابق صرف صفائی ہی نہیں بلکہ ندی کے کناروں پر کانکریٹ دیوار (پچنگ) کی تعمیر اور ڈونگرپلی میں ایک بیریج کا قیام بھی ناگزیر ہے تاکہ ندی میں صاف پانی کا ذخیرہ کیا جا سکے، اور زیر زمین پانی میں بہتری کے ساتھ کنوؤں میں بھی صاف اور قدرتی پانی پہنچ سکے۔
عمران لنکا نے اس بات پر زور دیا کہ ابتدائی مرحلے میں ڈونگرپلی میں بیریج کی تعمیر اور تقریباً تین کلو میٹر تک ندی کو ڈیڑھ سے دو میٹر گہرا کرکے مٹی نکالی جائے اور ندی کی صفائی کی جائے۔ اُنہوں نے اسسٹنٹ انجینئر پر زور دیا کہ مکمل دس کروڑ روپئے میں کتنے کلو میٹر تک ندی کی صفائی ممکن ہے، اس کا ایک تخمینہ تیار کیا جائے اور مانسون کے اختتام کے فوری بعد کام کا آغاز کیا جائے۔
سرابی ندی ہوراٹا سمیتی کے ایک ذمہ دار تیمور گوائی نے سرابی ندی کا تاریخی پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ سرابی ندی کو سلطنتِ خداداد میسور کے دور میں غیر معمولی اہمیت حاصل تھی۔ اُن کے مطابق حضرت ٹیپو سلطان شہید کے دور میں اسی ندی کے ذریعے عرب ممالک سے گھوڑے درآمد کیے جاتے تھے، جبکہ یہاں سے گرم مصالحے برآمد کیے جاتے تھے۔

تیمور گوائی کے مطابق آج ندی کی حالت اتنی خستہ ہو چکی ہے کہ سو سال سے زائد عرصے سے صفائی نہ ہونے کے باعث ندی کی تہہ میں مٹی، کیچڑ اور جھاڑیاں اُگ آئی ہیں، جس کے نتیجے میں ایک طرف مقامی لوگ تیرنے اور ندی میں نہانے سے محروم ہو گئے ہیں، وہیں صاف و شفاف ندی گندے نالے میں تبدیل ہو جانے کی وجہ سے ندی کے اطراف کے سینکڑوں کنوؤں میں بھی گٹر کا گندہ پانی داخل ہو رہا ہے، جس سے لوگوں کو پینے کا صاف پانی تو دور کی بات، دیگر ضروریات کے لیے بھی پانی میسر نہیں۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ وہ ندی، جہاں سے بحری جہازوں کے ذریعے عرب کے قافلے اُترا کرتے تھے، آج غوثیہ اسٹریٹ میں ڈرینیج پمپنگ اسٹیشن بننے کے بعد گندے نالے میں تبدیل ہو چکی ہے اور اب معمولی کشتی کا بھی وہاں سے گزر ممکن نہیں رہا۔
اس موقع پر تنظیم کے صدر عنایت اللہ شاہ بندری نے کہا کہ حکومت کی طرف سے جو رقم منظور کی گئی ہے، اس سے ابتدائی کام شروع کیا جائے گا، اور باقی ندی کی مکمل صفائی و پچنگ کے لیے مزید فنڈ منظور کروانے کی غرض سے ایک بار پھر وزیر منکال وئیدیا اور دیگر وزراء سے ملاقات کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر وزیراعلیٰ سے بھی ملاقات کر کے اُنہیں میمورنڈم پیش کیا جائے گا۔
اس موقع پر تنظیم کے جنرل سکریٹری عبدالرقیب ایم جے ندوی، عزیز الرحمن رکن الدین ندوی، آدم پنمبور، بھٹکل ٹاؤن میونسپالٹی کے انچارج صدر محی الدین الطاف کھروری، کونسلر قیصر محتشم، اشفاق کے ایم اور دیگر کافی ذمہ داران موجود تھے۔