بھٹکل 25/جولائی (ایس او نیوز) بھٹکل میں گذشتہ کئی دنوں سے جاری موسلا دھار بارش کے باعث نوائط کالونی میں واقع سرکاری ماڈل اردو اسکول کا صحن مکمل طور پر پانی میں ڈوب گیا ہے، جس کی وجہ سے طلبہ اور اساتذہ کو زانو تک پانی میں سے گزر کر اسکول میں داخل ہونا پڑ رہا ہے۔
اساتذہ کا کہنا ہے کہ ہر سال بارش کے موسم میں اسکول کا میدان تالاب میں تبدیل ہو جاتا ہے، لیکن مقامی انتظامیہ کی جانب سے اس مسئلے کا مستقل حل نکالنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی جا رہی ہے۔
1959 میں قائم یہ اسکول 2013 میں ہائی اسکول میں تبدیل کیا گیا تھا، جہاں اس وقت تقریباً 145 طلبہ زیرِ تعلیم ہیں — جن میں 70 پرائمری اور 75 ہائی اسکول کے طلبہ شامل ہیں۔ اگرچہ تعلیمی معیار قابلِ ستائش ہے، لیکن اسکول کو بنیادی سہولیات کی شدید قلت کا سامنا ہے، بالخصوص نکاسی آب کا نظام انتہائی ناقص ہے۔

اساتذہ اور والدین کی جانب سے بارہا مطالبہ کیا جا چکا ہے کہ اسکول کے صحن سے پانی کی نکاسی کا مستقل بندوبست کیا جائے تاکہ بچوں کو موسمِ باراں میں مشکلات نہ اٹھانی پڑیں۔ تاہم، اسکول کے ذمہ داران کا شکوہ ہے کہ بھٹکل میونسپل کونسل اور جالی پٹن پنچایت اس طرف کوئی توجہ نہیں دے رہے ہیں اور طلبہ و اساتذہ کو درپیش مسائل حل کرنے کی سنجیدہ کوششیں نظر نہیں آ رہی ہیں۔
تعلیمی افسر کا دورہ
مسلسل بارش کے بعد صورتحال مزید خراب ہونے پر، تعلقہ بلاک ایجوکیشن افسر وینکٹیش نائک نے اسکول کا دورہ کیا۔ انہوں نے موقع کا معائنہ کرنے کے بعد بلدیہ حکام سے رابطہ قائم کیا اور جلد از جلد مسئلے کے حل کی یقین دہانی کرائی۔
اس موقع پر اسکول ڈیولپمنٹ کمیٹی کے صدر حسن خان، رکن سید سلیم، ہائی اسکول کے ہیڈماسٹر ایوب خان اور پرائمری اسکول کی ہیڈ مس صبیحہ بانو بھی موجود تھے۔