بھٹکل، یکم جون (ایس او نیوز) اُترکنڑا کے ڈسٹرکٹ انچارج وزیر اور بھٹکل کے رکن اسمبلی منکال وئیدیا کے خلاف سوشیل میڈیا پر منفی پروپیگنڈے کے بڑھتے ہوئے سلسلے کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھٹکل بلاک کانگریس صدر وینکٹیش نائک نے کہا کہ اگر اس طرح کے بے بنیاد الزامات والی منفی تشہیر نہیں رکی تو پھر عوام خود ایسے افراد کو سبق سکھائیں گے۔
سوشیل میڈیا پر منکال وئیدیا کے خلاف جاری کی گئی ویڈیو کلپ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ تعلقہ کے بیلور کا ایک خودساختہ تاجر وزیر کے خلاف جھوٹے الزامات لگا کر سیاسی شہرت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس نے نہ صرف منکال وئیدیا بلکہ ان کے اہلِ خانہ کے خلاف بھی ہتک آمیز باتیں کی ہیں۔ ہم کانگریسی لیڈران ایسی حرکت کو برداشت نہیں کر سکتے اور اس کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ بیلور گرام سبھا میں عوام نے اس شخص کو اس رویے کا صحیح جواب دیا ہے۔
بلاک کانگریس صدر نے وضاحت کی کہ منکال وئیدیا نے اپنی پچھلی میعاد کے دوران ہوناور کے عوام سے ملٹی اسپیشیالٹی اسپتال کے قیام کا وعدہ کیا تھا۔ اب چونکہ وہ ریاست کے وزیر ہیں، حکومت اور عطیہ دہندگان کی مدد سے اس وعدے کو پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی صحت جیسے سنجیدہ معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ بیلور کی گرام سبھا میں بھی ماستپا نائک کے علاوہ تمام اراکین نے اسپتال کی تعمیر کے لیے زمین فراہم کرنے کی تائید کی، جبکہ ایسے اہم عوامی فلاحی منصوبے میں رکاوٹ ڈالنا بدقسمتی کی بات ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کسی کو بھی عوامی مفاد میں ہونے والے ترقیاتی کاموں میں خلل نہیں ڈالنا چاہیے۔ لیکن ماستپا نائک اس اقدام کو برداشت نہیں کر پا رہا، اس لیے وہ وزیر کے خلاف بے بنیاد الزامات لگا رہا ہے۔ اس نے بیلور گرام سبھا میں حاضرین کو اپنے حق میں کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا، اور وہاں کے عوام نے اسے منہ توڑ جواب دیا۔ بیلور پنچایت کے عوام نے اسپتال کی تعمیر کے لیے وزیر کی بھرپور حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس شخص کو کم از کم اب تو عقل آنی چاہیے اور اسے اپنی ان حرکتوں سے باز آنا چاہیے، ورنہ آنے والے دنوں میں عوام اسے خود ہی اچھا سبق سکھائیں گے۔
پریس کانفرنس میں بھٹکل بلاک کانگریس جنرل سیکریٹری سریش نائک، بلاک کانگریس کائیکینی گرام پنچایت صدر راجو نائک، گارنٹی کمیٹی صدر راجو نائک کوپّا، بیلکے گرام پنچایت صدر جگدیش نائک، پٹن پنچایت کے رکن رمیش نائک، کسان سنگھ کے صدر نارائن نائک سوڈی گدّے، گارنٹی کمیٹی رکن بھاسکر موگیر، منجو ناتھ نائک، جٹپّا نائک مٹھلّی، وینکٹیش دیواڈیگا اور دیگر افراد موجود تھے۔