ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / بنگلہ دیش: طارق رحمان کی تقریبِ حلف برداری 17 فروری کو، 13 ممالک کو باضابطہ دعوت نامے ارسال

بنگلہ دیش: طارق رحمان کی تقریبِ حلف برداری 17 فروری کو، 13 ممالک کو باضابطہ دعوت نامے ارسال

Sun, 15 Feb 2026 12:48:05    S O News
بنگلہ دیش: طارق رحمان کی تقریبِ حلف برداری 17 فروری کو، 13 ممالک کو باضابطہ دعوت نامے ارسال

ڈھاکہ، 15/ فروری (ایس او نیوز /ایجنسی) بنگلہ دیش میں ہوئے حالیہ عام انتخابات میں سب سے زیادہ سیٹیں جیت کر اکثریت حاصل کرنے والی بی این پی کے رہنما طارق رحمان 17 فروری کی شام کو بنگلہ دیش کے وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ نئی کابینہ کی تقریب حلف برداری کی تیاریاں تیز ہو گئی ہیں اور اسے بڑی سفارتی تقریب کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے 13 ممالک کے سربراہان مملکت کو دعوت نامہ بھیجا ہے۔ اس اقدام کو بنگلہ دیش کی نئی حکومت کی خارجہ پالیسی اورعلاقائی توازن کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

تقریب حلف برداری کے موقع پر مدعو کیے گئے ممالک میں ہندوستان، چین، سعودی عرب، پاکستان، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، قطر، ملائیشیا، برونائی، سری لنکا، نیپال، مالدیپ اور بھوٹان شامل ہیں۔ اس سلسلے میں جنوبی ایشیا سے لے کر مغربی ایشیا تک کے ممالک کا اجتماع اس تقریب کو سفارتی طور پر اہمیت دیتا ہے۔ بنگلہ دیش کی راجدھانی ڈھاکہ میں منعقد ہونے والی حلف برداری کی یہ تقریب محض رسمی پروگرام نہیں مانا جارہا ہے بلکہ اسے نئی حکومت کے بین الاقوامی پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ خاص طور پر ہندوستان اور چین دونوں کو نیوطہ بھیجا جاناعلاقائی توازن برقرار رکھنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

نئی کابینہ کے ساتھ حلف لینے جارہے طارق رحمان کو ملکی سیاست کو مستحکم کرنے، معیشت کی بحالی اور بین الاقوامی تعلقات میں توازن برقرار رکھنے کے مشکل چیلنج کا سامنا ہوگا۔ بتادیں کہ بنگلہ دیش کے انتخابات میں بی این پی نے 209 نشستیں حاصل کی ہیں، جب کہ جماعت اتحاد نے 68 نشستیں حاصل کیں۔ مجموعی طور پر299 نشستوں کے لیے انتخابات ہوئے تھے۔

60 سالہ رحمان کا تعلق بااثر ضیا خاندان سے ہے، یہ وہی خاندان ہے جس نے کئی دہائیوں تک بنگلہ دیش کی سیاست پرغلبہ رکھنے والی پارٹی کی قیادت کی۔ ان کے والدین دونوں ہی ملک میں اعلیٰ رہنما کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ تاہم رحمان کا وزیر اعظم کے عہدے تک کا سفر آسان نہیں رہا۔ ان کا سیاسی کیریئر اپنے حریفوں کی جانب سے اقربا پروری اور بدعنوانی کے الزامات کی وجہ سے متاثر ہوا ہے۔ ان کے والد کو اس وقت قتل کر دیا گیا تھا جب وہ نوعمر تھے، جس نے طارق کو طویل عرصے تک ملک سے باہر رہنے پر مجبور کیا اور متعدد تنازعات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کی والدہ ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم خالدہ ضیا کےانتقال کے کچھ ہی ہفتوں بعد طارق رحمان کو بی این پی کا سربراہ بنایا گیا تھا۔ اس کے فوراً بعد بنگلہ دیش میں انتخابات ہوئے اور بالآخر ان کی پارٹی نے اکثریت حاصل کر لی۔

رحمان نے 2001 میں بی این پی میں ایک فعال کردار ادا کرنا شروع کیا، جب ان کی عمر تقریباً 35 سال تھی۔ خالدہ ضیاء نے پہلی بار 1991 سے 1996 تک وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ان کے والد ضیاء الرحمان آرمی چیف سے صدرمملکت  بنے اور 1981 میں فوجی بغاوت کے دوران انہیں قتل کر دیا گیا۔ وہ بنگلہ دیش کی جنگ آزادی کے سرفہرست رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے 1978 میں بی این پی کا قیام کیا تھا۔


Share: