ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / انکولہ : پہاڑی کھسکنے کے معاملے میں ملزمین کو گرفتار نہ کرنے پر سوامی جی کریں گے بھوک ہڑتال

انکولہ : پہاڑی کھسکنے کے معاملے میں ملزمین کو گرفتار نہ کرنے پر سوامی جی کریں گے بھوک ہڑتال

Sat, 19 Jul 2025 12:00:55    S O News

انکولہ ،19 / جولائی (ایس او نیوز) گزشتہ سال انکولہ کے شیرور میں نیشنل ہائی وے  پر پہاڑی کھسکنے کا جو المناک واقعہ پیش آیا تھا اس کے لئے ذمہ دار سمجھے جانے والے ملزمین کو اب تک گرفتار نہیں کیا گیا ۔ اس کے خلاف احتجاج کے طور پر نارائین گرو شکتی پیٹھ کے سوامی پرنوانندا نے ضلع ڈپٹی کمشنر دفتر کے روبرو  24 جولائی کو بھوک ہڑتال کا اعلان کیا ہے ۔
    
سوامی جی نے اپنے احتجاجی مظاہرے کے تعلق سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس ہلاکت خیز حادثے کے لئے نیشنل ہائی وے توسیعی منصوبے کی ٹھیکیدار کمپنی آئی آر بی کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے عدالت میں کمپنی کے آٹھ کے افراد کے خلاف شکایت درج کروائی گئی تھی ۔ جس کے بعد عدالت نے ان ملزمین کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے پولیس کو ہدایت دی تھی ۔ قتل کا معاملہ درج ہونے کے چار مہینے بعد بھی ملزمین کو گرفتار نہ کیے جانے پر انکولہ پولیس انسپکٹر چندرا شیکھر مٹھ پتی کو معطل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی بھوک ہڑتال کا پروگرام بنایا گیا ہے ۔ 
    
انہوں نے بتایا کہ پہاڑی کھسکنے کے نتیجے میں جو 11 افراد ہلاک ہوئے تھے ان میں سے 7 کا تعلق نامدھاری سماج سے تھا ۔ اسی طرح ایک خاتون ہالکّی طبقہ سے تھی۔اس ضمن میں بھوک ہڑتال کے لئے اجازت بھی حاصل کی گئی ہے ۔ جب تک متاثرہ خاندانوں کو انصاف نہیں ملتا، تب تک بھوک ہڑتال مسلسل چلتی رہے گی۔
    
سوامی جی کہنا تھا کہ جس جگہ پر پہاڑی کھسکنے کا معاملہ پیش آیا تھا وہاں پر دوبارہ ایسا واقعہ روکنے کی سمت میں بھی کوئی اقدام نہیں کیا گیا ہے ۔ اسی طرح گنگاولی ندوی میں بہت بڑی مقدار میں گرا ہوا پہاڑی کا ملبہ بھی تا حال ہٹایا نہیں گیا ۔ یہ ایک ناقابل معافی جرم ہے ۔ 
    
انہوں نے مزید یہ بھی الزام لگایا کہ لوگوں کی جان سے کھیلنے والی آئی آر بی کمپنی والوں نے بے گھر ہونے والوں کو کوئی معاوضہ بھی ادا  نہیں کیا ہے ۔  اس حادثے میں 6 گھر مکمل طور پر تباہ ہونے کے باوجود ریاستی حکومت کی جانب سے فی کس صرف 1.20 لاکھ روپے ہی معاوضہ کے طور پر ادا کیے گئے ۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا اس رقم سے نیا گھر تعمیر ہو سکتا ہے ۔ اس لئے ہمارا مطالبہ ہے کہ ایسے ہر متاثرہ خاندان کو گھر تعمیر کرنے کے لئے کم از کم دس لاکھ روپے معاوضہ دیا جانا چاہیے۔
    
سوامی جی نے کہا کہ اس تعلق سے اس سے قبل کاروار میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر اور ہوناور میں نیشنل ہائی وے اتھاریٹی آف انڈیا کے دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرا کیا گیا تھا ۔ اس وقت متاثرین کو مناسب معاوضہ اور ملزموں کے خلاف کارروائی کا تیقن دیا گیا تھا ۔ لیکن آج تک کوئی بھی کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے دوبارہ احتجاج کا راستہ اپنانے کی نوبت آئی ہے ۔ 
    
سوامی جی نے مرکزی وزیر برائے ہائی ویز نتین گڈکری سے ملاقات کرتے ہوئے اپنے مذکورہ بالا مطالبات ان کے سامنے رکھے ہیں اور اپنی مانگیں پوری نہ ہونے کی صورت میں  24 جولائی سے اتر کنڑا ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے سامنے بھوک ہڑتال شروع کرنے کی دھمکی دی ہے ۔ 


Share: