انکولہ ،23 / جولائی (ایس او نیوز) تعلقہ کے کینی میں مجوزہ تجارتی بندرگاہ کی مخالفت میں ہزاروں کی تعداد میں ماہی گیروں نے زبردست احتجاجی ریلی نکالی اور تحصیلدار کے توسط سے ضلع انتظامیہ کو میمورنڈم پیش کیا ۔
کینی، ہارواڈ، بیلے کیری بیلمبار سے آنے والے احتجاجی مظاہرین میں ماہی گیروں کے علاوہ مقامی لیڈروں اور عوام کی کثیر تعداد شامل تھی ۔ ہزاروں کی تعداد میں ماہی گیروں نے اپنا کاروبار بند رکھتے ہوئے اس احتجاج میں شرکت کی ۔
میمورنڈم میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ماہی گیروں کے مفادات کے پیش نظر حکومت اس نجی بندرگاہ کے منصوبہ کو فوری طور پر منسوخ کر دے ۔ کانگریس کے سابق سیکریٹری اور نوجوان لیڈر گوپال کرشنا نائیک نے کہا کہ عوام کی اتنی سخت مخالفت کے باوجود اگر حکومت کو بندرگاہ تعمیر کرنا ہی ہے تو پھر عوام کی اجتماعی سمادھی پر تعمیر کرے ۔
احتجاجیوں نے وزیر مالگزاری کرشنا بائرے گوڑا کے ساتھ ضلع انچارج وزیر منکال وئیدیا، ایم ایل اے ستیش سئیل کے قافلے کو نیشنل ہائی وے پر روکتے ہوئے وزیر کرشنا بائرے گوڑا سے میمورنڈم قبول کرنے کی گزارش کی ۔ وزیر موصوف نے کار سے باہر نکل کر میمورنڈم قبول کرتے ہوئے اس ضمن میں وزیر اعلیٰ سے بات چیت کرنے کا تیقن دیا ۔ اس موقع پر وزیر منکال وئیدیا اور رکن اسمبلی ستیش سئیل کار سے باہر نہ نکلنے پر کچھ مظاہرین نے اعتراض کیا ۔ وزیر بائرے گوڑا کا قافلہ گزر جانے کے بعد احتجاجیوں کے دو گروپوں کے درمیان تکرار شروع ہوئی ۔
اس تنازعے پر جب کاروار میں ستیش سئیل سے سوال کیا گیا تو احتجاجیوں کی قیادت کرنے والے گوپال کرشنا نائیک کے عہدے اور منصب کے تعلق سے انہوں نے سوال کھڑے کیے اور میمورنڈم قبول نہ کرنے کے سلسلے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے کئی مرتبہ اسی مضمون والا میمورنڈم قبول کر چکا ہوں ۔ انہوں نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ بار بار ایک ہی قسم کی تحریر قبول کرنے کا مطلب کیا ہے ؟ کیا وہ کوئی مٹکہ چٹھی (جوئے بازی کا نمبر لکھی گئی چٹھی) ہے کیا؟ انہوں نے مزید کہا کہ میں نے اس ضمن میں وزیر اعلیٰ سے بات چیت کی ہے ۔ اس مسئلے کا حل نکالنے کی کوشش کر رہا ہوں ۔