ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / "میں نے چُرائی تھی 150 روپے کی گھڑی" – 49 سال پرانے کیس میں ملزم کا اعتراف، عدالت نے سنایا فیصلہ

"میں نے چُرائی تھی 150 روپے کی گھڑی" – 49 سال پرانے کیس میں ملزم کا اعتراف، عدالت نے سنایا فیصلہ

Thu, 07 Aug 2025 20:16:32    S O News

جھانسی، 7 /اگست (ایس او نیوز / ایجنسی) اتر پردیش کے جھانسی میں ایک انوکھا معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں 150 روپے کی ایک گھڑی چوری کے مقدمے میں عدالت نے 49 سال بعد فیصلہ سنا دیا۔ عدالت کو ملزم کی شناخت میں لمبا وقت لگا، مگر ملزم نے خود عدالت کے سامنے جرم قبول کیا، جس کے بعد عدالت نے اُسے مجرم قرار دیا۔

فی الحال ملزم کی عمر 76 سال ہو چکی ہے، جب کہ یہ کیس اُس وقت درج ہوا تھا جب وہ محض 25 برس کا تھا۔ اس نے عدالت سے کہا کہ جو بھی سزا دی جائے، وہ اسے قبول کرے گا۔

یہ واقعہ جھانسی کے ٹہرولی علاقے میں واقع ایک سہکاری سوسائٹی سے جڑا ہے۔ مدھیہ پردیش کے گوالیار سے تعلق رکھنے والے کنہیا لال ولد گجادھر، بامنوا گاؤں میں ایل ایس ایس سہکاری سوسائٹی میں چپراسی (peon) کے طور پر کام کرتے تھے، جہاں لکشمی پرساد اور رگھوناتھ بھی ان کے ساتھی تھے۔

سال 1976 میں اُس وقت کے سکریٹری بہاری لال گوتم نے ٹہرولی تھانے میں ایف آئی آر درج کروائی تھی کہ رسید بُک اور 150 روپے کی ایک گھڑی چوری ہو گئی ہے۔ چوری شدہ رسید بُک پر جعلی دستخط کرکے 14472 روپے کی غیر قانونی وصولی کی گئی، جس میں لکشمی پرساد نے 3887.40 روپے کی رقم کاٹی۔ ملزمان پر سرکاری رقم ہڑپنے (embezzlement) کا بھی الزام لگا۔ وقت کے ساتھ ساتھ لکشمی پرساد اور رگھوناتھ انتقال کر گئے، جبکہ کنہیا کو گرفتار کرکے جیل بھیجا گیا، اور پھر ضمانت پر رہا کیا گیا۔

پولیس نے 19 ستمبر 1984 کو چارج شیٹ عدالت میں داخل کی تھی۔ مقدمہ طویل عرصے تک چلتا رہا، اور کنہیا تقریباً ہر پیشی پر عدالت حاضر ہوتا رہا۔ 23 دسمبر 2023 کو عدالت نے کنہیا پر الزام طے کیا، اور اب تقریباً تین سال بعد اسے مجرم قرار دیتے ہوئے جیل میں گزاری گئی مدت کو ہی سزا مان لیا گیا ہے۔


Share: