علی گڑھ، 26؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ایک طرف اپنے جواہر لال نہرو میڈیکل کالج کو ایمس کی طرح بنانے کی تیاری کر رہا ہے ، وہیں دوسری طرف یہاں کا میڈیکل کالج کتنا لاپرواہ ہے اس کی مثال دیکھنے کو ملی ہے۔اے ایم یو کے شعبہ ما رڈن انڈین لینگویج کے چیئرمین و تمل کے پروفیسر کو بیماری کی و جہ سے ان کے ساتھیوں نے میڈیکل کالج میں اتوار کو ایڈمٹ کرایا، لیکن منگل کی دوپہرمیں حالت بگڑنے کے بعد یہاں کے ڈاکٹروں نے ان کو تقریبا ایک بجے دہلی کے لیے ریفر کر دیا۔اب اس کے بعد اس قدر لاپرواہی شروع ہوئی کہ پروفیسر کو اپنی جان گوانی پڑی۔پروفیسر کو میڈیکل کالج کی جانب سے ایمبولینس دستیاب نہیں کرائی گئی۔تقریبا ایک بجے سے ریفر کرنے کے بعد شام چھ بجے چیئرمین پروفیسر ڈی مورتی کی جے این میڈیکل کالج میں موت ہو گئی۔ان کے ساتھیوں نے بتایا کی ایمبولینس کے لیے ریفرل فارم نہ ملنے پر ایک پلین کاغذ پر درخواست لکھ کر دے دی گئی تھی، لیکن میڈیکل اٹینڈنٹ اسکیم کے ڈائریکٹر ڈاکٹر انجم پرویز نے اس کو مسترد کر دیا اور فارم بھر کر لانے کو کہا۔اسی تاخیرکے چلتے پروفیسر نے شام کو یہیں دم توڑ دیا۔ان کے شعبہ میں میڈیکل کی اس لاپرواہی کے چلتے غصہ ہے۔ان کاکہناہے کہ پہلے مریض ضروری تھا یا فارم۔تمل ناڈو کے رنگاپور م علاقے کے تھرو ویکانگر کے رہنے والے پروفیسر ڈی مورتی یہاں28سال سے تمل زبان کے پروفیسر تھے۔یکم اپریل کو محکمہ کے چیئرمین بنائے گئے۔پروفیسر مورتی کچھ دن سے پیٹ کی تکلیف میں مبتلا تھے۔اتوار کو انہوں نے میڈیکل کالج میں ٹیسٹ کرایا تو آنت میں بلا کیج ملا۔پروفیسر مورتی کا آپریشن کرنے والے سرجری ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین پروفیسر ایم اسلم نے بتایا کہ انہیں آنت کا کینسر تھا جو ایڈوانس پوزیشن میں تھا۔اتوار کی رات ان کا آپریشن کیا گیا۔پیر کی صبح ان کی صحت خراب ہو گئی، ان کے گردے نے بھی کام کرنا بند کر دیا۔اس کے بعد سے انہیں آئی سی یو میں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا۔گردے فیل ہونے پر نیفرولاجی کے ڈاکٹروں سے مشورہ کیا گیا۔انہوں نے لگاتار تھیراپی کا مشورہ دیا ، جو دہلی میں ہوتا ہے۔اس وجہ سے انہیں دوپہر ریفر کرنے کی بات طے ہوئی۔میڈیکل کالج کا انتظام کس طرح کا ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ زندگی اور موت سے دو چار پروفیسر مورتی کو دہلی ریفر کرنے کے لیے سی ایم او دفتر کا ریفرل فارم ہی نہیں تلاش کر پائے۔ایمبولینس بھیجنے کی ذمہ داری سنبھالے والے میڈیسن کے پروفیسر انجم پرویز کے پاس سادہ کاغذ پر ریفر کرنے کی بات لکھ کر پرچی بھیجی گئی، جسے انہوں نے اصول کا حوالہ دے کر مسترد کر دیا۔انہوں نے اپنے گھر سے ریفرل فارم دیا، تب تک شام کے چھ بج گئے۔اس کے 15منٹ بعد ایمبولینس تیار ہوئی، تب تک ان کی موت ہو چکی تھی۔اے ایم یو انتظامیہ نے پورے معاملے میں ایک کمیٹی قائم کر جانچ کی بات کہی ہے۔