پُوری (اڑیسہ) 29/جون (ایس او نیوز) : شری گنڈیچا مندر کے قریب رتھ یاترا کے دوران بھگدڑ مچنے سے کم از کم تین افراد ہلاک اور پچاس سے زائد زخمی ہو گئے۔ حادثہ اتوار صبح تقریباً چار بجے اُس وقت پیش آیا جب سیکڑوں عقیدت مند رتھ یاترا کے مناظر دیکھنے کے لیے جمع تھے۔
افراتفری اس وقت شروع ہوئی جب رتھ کے قریب دو ٹرک داخل ہوئے اور بھیڑ کو قابو میں رکھنا مشکل ہو گیا۔ زخمیوں کو نزدیکی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جن میں سے چھ کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ مرنے والوں میں بسنتی ساہو (بولگڑھ)، پریم کانت موہنٹی اور پرباوتی داس (بالی پٹنہ) شامل ہیں۔
واقعہ کے بعد اڑیسہ کے وزیراعلیٰ موہن چرند ماجھی نے ہنگامی اجلاس بلایا اور عقیدت مندوں سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ یہ لاپرواہی ناقابلِ معافی ہے۔ انہوں نے واقعہ کی اعلیٰ سطحی جانچ کا حکم دیتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا۔
حکومت نے فوری ایکشن لیتے ہوئے پوری کے ضلع مجسٹریٹ سدھارتھ شنکر سوائن اور ایس پی وِنت اگروال کا تبادلہ کر دیا ہے۔ پیناک مشرا کو نیا ایس پی اور چنچل رانا کو نیا ضلع مجسٹریٹ مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دو افسران، ڈی سی پی وشنو پتی اور کمانڈنٹ اجے پاڑھی کو معطل کر دیا گیا ہے۔
ریاستی حکومت نے مرنے والوں کے لواحقین کو 25 لاکھ روپے کی مالی امداد دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔
سابق وزیراعلیٰ نوین پٹنائک نے حکومت پر بدانتظامی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ رتھ یاترا جیسے مذہبی تہوار میں انتظامیہ کی ناکامی نے افسوسناک حادثہ کو جنم دیا ہے۔