ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / 29 فی صد صہیونی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور!

29 فی صد صہیونی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور!

Wed, 14 Dec 2016 11:28:15    S.O. News Service

تل ابیب،13؍دسمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)صہیونی ریاست کی ظاہرہ چکا چوند اور نظر کو خیرہ کرنے والی چمک سے لگتا ہے کہ یہ کوئی دنیا کا امیر ترین ملک ہے جہاں ہرشخص خوش حال زندگی گذار رہا ہے مگرحقیقت اس کے برعکس ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل میں 29فی صد یہودی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گذارنے پرمجبور ہیں۔اسرائیل میں انسداد غربت کے لیے کام کرنے والی تنظیم لاٹیٹ نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ صہیونی ریاست میں 25لاکھ افراد خط غربت سے نیچے زندگی گذار رہے ہیں۔ یہ تعداد کل آبادی کا 29فی صد ہے۔تنظیم کے اعدادو شمار صہیونی ریاست کے سرکاری سطح پر جاری کردہ اعدادو شمار کی نفی کرتے ہیں۔ کیونکہ اسرائیلی حکومتیں اپنی ناکام چھپانے کے لیے غربت کی شرح کم بتاتی ہیں۔تنظیم لاٹیٹ کے ڈائریکٹر جنرل عیران فائنٹروب کا کہنا ہے کہ اسرائیل میں مسلسل تیسرے سال کے دوران تیزی کے ساتھ غربت کی شرح میں اضافہ جاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نیشنل انشورینس فاؤنڈیشن کے بیانات اور اعدادو شمار کے برعکس غربت کا شکار آبادی کی تعداد بہت زیادہ ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل میں 24لاکھ 36ہزار سے زاید افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرتے ہیں۔ بچوں میں غربت کے شکار افراد کی تعداد 35.4فی صد اور بالغ افراد میں 25.8فی صد ہے جب کہ مجموعی طور پر 29فی صد صہیونی غربت کی لکیر س نیچے زندگی گذارتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق 65.7فی صد متوسط طبقے کے افراد قرضوں میں ڈوبے ہوئے ہیں جب کہ غربت کی سطح سے معمولی اوپر 50.6فی صد افراد کی اقتصادی اور معاشی حالت بد سے بد تر کی جانب جاری ہے۔
 


Share: