ممبئی: 8/ اگست(ایس او نیوز/پریس ریلیز) 1993جئے پور سلسلہ وار ٹرین بم دھماکہ معاملے میں مجرم قرارد یئے گئے ایک ملزم کی پیرول پر رہائی کے لیئے جمعیۃ علماء کے توسط سے سپریم کورٹ آف انڈیا میں داخل عرضداشت پر آج بحث مکمل ہوئی جس کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا، اس سے قبل کی سماعت پر استغاثہ کی عدم دلچسپی کی وجہ سے معاملے کی سماعت ٹل گئی تھی ۔
عرض گذار کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے ممبئی میں اخبار نویسوں کو بتایا کہ گذشتہ 23سالوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقید عمر قید کی سزا کاٹ رہے اشفاق عبدالعزیز کی پیرول پر رہائی کے لیئے سپریم کورٹ میں ایک عرضداشت داخل کی گئی تھی جس پر آج سماعت عمل میں آئی جس کے دوران سینئر ایڈوکیٹ رتنا کر داس نے دو رکنی بینچ کے جسٹس اے کے سیکری اور جسٹس اشوک بھوشن کو بتایا کہ ٹاڈا قانون میں ایسا کہیں بھی نہیں لکھا ہوا ہیکہ ٹاڈا قانون کے تحت سزا پانے والے مجرمین کو پیرول کی سہولت سے محروم رکھا جائے گا بلکہ ہندوستانی آئین کے مطابق ہر مجرم کو پیرول کی سہولت دیئے جانے کی وکالت کی گئی ہے چاہئے اس کا جرم کتنا ہی سنگین ہو ۔
ایڈوکیٹ رتناکر داس نے عدالت کو بتایا کہ اشفاق احمد عبدالعزیز گذشتہ ۱۷؍ سالوں سے اس کی فیلی اور دیگر رشتہ داروں سے ملا نہیں ہے اور وہ 23سالوں سے جیل میں مقید ہے نیز اسے 17 سال قبل چار مرتبہ مختلف مواقعوں پر چند دنوں کے لیئے عارضی ضمانت پر رہا کیا گیا تھا جس کے دوران وہ ایسی کوئی بھی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث نہیں تھا جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ اگر اشفاق کو پیرول پر رہا کیا گیا تو اس کی رہائی سے نظم و نسق کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے اس کے باوجود ضلعی پیرول ایڈوائزی ، جئے پور جیل سپرنٹنڈنٹ اور جئے پور ہائی کورٹ نے عرض گذار کو پیرول پر رہا کرنے سے منع کردیا تھا۔
ایڈوکیٹ داس نے عدالت کی توجہ حکومت کی جانب سے داخل کردہ جواب پر بھی دلائی جس میں یہ کہا گیا ہیکہ عرض گذار کے خلاف ’’منفی رپورٹ‘‘ ہے لیکن اس بات کا کوئی خلاصہ نہیں کیا گیا ہیکہ کس چیز کی منفی رپورٹ اور وہ کس بنیاد پر تیار کی گئی ہے جبکہ عرض گذار پچھلے 17سالوں سے جیل سے رہا ہی نہیں ہوا۔
حالانکہ اس درمیان حکومت کی نمائندگی کرنے والے وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ ٹاڈا قانون کے تحت سزا پانے والوں کو سیکوریٹی کے مدنظر حکومت نے پیرول سے محروم رکھنے کی پالیسی بنائی ہوئی ہے ۔
فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد دو رکنی بینچ نے فیصلہ محفوظ کرلیا اور امید ہیکہ اگلے چند ایام میں فیصلہ چیمبر سے ہی سنا دیا جائے گا۔
آج سپریم کورٹ میں دوران بحث ایڈوکیٹ رتنا کر داس کے ہمراہ ایڈوکیٹ ارشاد حنیف ، ایڈوکیٹ عارف علی اور ایڈوکیٹ مجاہد احمد بھی موجود تھے۔