ثانیہ مرزااورلینڈرپیس نے ذاتی کامیابیوں سے اپنی صلاحیت کا لوہامنوایا
نئی دہلی،26دسمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)ہندوستان کے ا سٹار ٹینس کھلاڑیوں کی اولمپکس تمغہ جیتنے کی خواہش نجی انانیت کی وجہ سے ایک بار پھر پوری نہیں ہو سکی لیکن تجربہ کار ثانیہ مرزا اور عظیم لینڈر پیس کے لئے سال 2016نجی کامیابیاں لے کر آیا۔روہن بوپنا کے ساتھ مل کر ثانیہ اولمپک تمغہ جیتنے کے قریب پہنچی لیکن ریو میں مکسڈ ڈبلز سیمی فائنل میں جیت کی صورت حال میں ہونے کے باوجود اس جوڑی کو شکست جھیلنی پڑی۔وینس ولیمز اور راجیو رام کی امریکی جوڑی کے خلاف ہندوستانی جوڑی کافی اچھی حالت میں تھی لیکن اس کے بعد کئی آرام دہ غلطیاں کرکے انہوں نے مقابلہ گنوا دیا۔ثانیہ ہمیشہ ریو میں بوپنا کے ساتھ جوڑی بنانا چاہتی تھی لیکن ٹور پر انہوں نے کبھی جوڑی نہیں بنائی جس کی وجہ سے پریکٹس کی کمی کا خمیازہ اولمپکس میں بھگتنا پڑا۔ناکامی کے خوف کی وجہ سے شاید یہ دونوں جوڑی بنا کر نہیں کھیلے۔اس سے پہلے پیس نے بھی دعوی کیا تھا کہ وہ مکسڈ ڈبلز کھیلنے کے لئے بہترین کھلاڑی ہیں۔بوپنا اور ثانیہ کی تیاری انڈین ایسیج کے لئے کچھ آئی پی ٹی ایل میچ کھیل کر ہی ہوئی تھی۔یہ دونوں اگرچہ اولمپکس کے دباؤ کا سامنا میں ناکام رہے۔پیس اور بوپنا مرد جوڑے میں مارٹن ماتکووسکی اور لوکاس کبوٹ کی پولینڈ کی جوڑی کے خلاف پہلے راؤنڈ کی رکاوٹ بھی پار نہیں کر پائے۔بوپنا کبھی پیس کے ساتھ جوڑی نہیں بنانا چاہتے تھے اور انہوں نے اے آئی ٹی اے کو بھی اس سے آگاہ کیا تھا کہ وہ ساکیت مانینی کے ساتھ کھیلنا چاہتے ہیں لیکن فیڈریشن پیس جیسے عظیم کھلاڑی کو نظر انداز نہیں کرنا چاہتا تھا جو تاریخی ساتویں اولمپکس میں حصہ لینے کے لئے چیلنج پیش کر رہے تھے۔
پیس کی درجہ بندی براہ راست رسائی کے لئے کافی نہیں تھی اور اگر بوپنا کے ساتھ ان کی جوڑی نہیں بنتی تو ان کا ساتویں اولمپکس میں حصہ لینے کا خواب کبھی پورا نہیں ہوتا۔پیس اور بوپنا نے جنوبی کوریا کی کمزور ڈیوس کپ ٹیم کے خلاف مقابلے کے علاوہ کبھی ساتھ پریکٹس نہیں کی۔پیس عالمی ٹیم ٹینس میں کھیلنے میں مصروف تھے اور مقابلہ شروع ہونے سے صرف ایک دن پہلے ریو پہنچے۔پیس نے ساتویں بار اولمپکس میں حصہ لیا جو اس سے پہلے کوئی ٹینس کھلاڑی نہیں کر پایا لیکن ان کے لئے کھیلوں کا مہاکمبھ یادگار نہیں رہا۔سائنا، بوپنا اور پیس تینوں کے لئے یہ اولمپک تمغہ جیتنے کا شاید آخری موقع تھا کیونکہ 2020ٹوکیو اولمپکس کے دوران شاید یہ کورٹ پر اتنے فعال نہیں ہوں۔اے آئی ٹی اے کا بھی کھلاڑیوں پر کنٹرول نہیں ہے کیونکہ کھلاڑیوں کا کیریئر سنوارنے میں اس کا کردار تقریبا نہ ہونے کے برابر ہے۔یونین نہیں بلکہ کھلاڑی اپنے فیصلے خود کرتے ہیں اور انہیں مجرم نہیں ٹھہرایا جاتاہے۔