ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / 2016: سپریم کورٹ میں حکومت-عدلیہ کی رسہ کشی اور مودی حکومت پر دباؤ چھایا رہا

2016: سپریم کورٹ میں حکومت-عدلیہ کی رسہ کشی اور مودی حکومت پر دباؤ چھایا رہا

Tue, 27 Dec 2016 12:13:52    S.O. News Service

نئی دہلی، 26؍دسمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )ہائی کورٹوں میں ججوں کی تقرری کو لے کر عدلیہ اور حکومت کے درمیان بڑھتی رسہ کشی اور کا لیجیم کا طریقہ کار 2016کے دوران سپریم کورٹ میں چھایا رہا جہاں اروناچل پردیش اور اتراکھنڈ میں صدر راج لگائے جانے کے معاملے میں مودی حکومت کو زبردست شرمندگی کا اٹھانی پڑی ۔ملک میں 500 اور1000 روپے کے نوٹوں کے چلن پر پابندی لگانے کے وزیر اعظم نریندر مودی کے اعلان کے بعد یہ مسئلہ مسلسل عدالت عظمی پہنچتا رہا جس کی وجہ سے حکومت کی سانس اٹکی رہی ۔عدالت نے اس معاملے کی تقریبا ہر سماعت پر اس فیصلے سے عوام کو ہو رہی پریشانیوں کے لیے حکومت کو آڑے ہاتھ لیا اور اس سے کچھ بے چین کرنے والے سوالات بھی پوچھے۔عدالت نے حالانکہ نوٹ بندی کے فیصلے میں کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ سے انکار کر دیا لیکن اسے لے کر دائر کئی درخواستوں کو بعد میں اس نے سارے معاملے کو اچھی طرح سوچ سمجھ کر فیصلے لینے کے لیے آئینی بنچ کو سونپ دیا۔حکومت کو نوٹ بندی کے معاملے میں ہی عدالت کی پھٹکار نہیں سننی پڑی بلکہ اروناچل پردیش اور اتراکھنڈ جیسی ریاستوں میں صدر راج نافذ کرنے کے معاملے میں بھی شرمندگی اٹھانی پڑی ، حالانکہ اس دوران ہائی کورٹوں میں ججوں کی تقرری کو لے کر عدلیہ اور حکومت کے درمیان لفظی جنگ چلتی رہی اور دونوں ہی ایک دوسرے پر’ لکشمن ریکھا‘سے تجاوز کرنے کا الزام لگاتی رہیں ۔عدلیہ اور بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت کے درمیان تلواریں تو گزشتہ سال ہی اس وقت کھنچ گئی تھیں ، جب آئینی بنچ نے قومی عدالتی تقرری کمیشن قانون کو منسوخ کر دیا تھا۔یہ رسہ کشی اس سال اس وقت اور بڑھ گئی تھی جب عدالت عظمی نے ججوں کی تقرری کا معاملہ عدالتی فریق کی طرف سے اٹھانے کی دھمکی دی لیکن بعد میں اس نے ایک مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے عدلیہ کا کام ٹھپ کرنے کے لیے مرکز کو ذمہ دار ٹھہرایا۔


Share: