ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / 2016 میں امریکہ میں پولیس اہلکاروں کی ہلاکتوں میں اضافہ:رپورٹ

2016 میں امریکہ میں پولیس اہلکاروں کی ہلاکتوں میں اضافہ:رپورٹ

Sat, 31 Dec 2016 10:40:00    S.O. News Service
واشنگٹن،30؍دسمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)امریکہ میں رواں سال اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران مارے جانے والے پولیس اہلکاروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ان میں زیادہ تر ہلاکتیں پولیس اہلکاروں پر ہونے والے حملوں میں ہوئیں جن میں ڈیلاس، بالٹن اور لوزیانا میں گھات لگا کر کیے جانے والے حملے میں شامل ہیں۔نیشنل لا انفورسمنٹ میموریل فنڈ کی طرف سے جاری ہونے والی رپوررٹ کے مطابق رواں سال 135 پولیس افسر ہلاک ہوئے، ان میں سے بعض ٹریفک حادثات میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جب کہ نصف تعداد ان اہلکاروں کی ہے جنہں گولی مار کر ہلاک کیا گیا۔گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال فائرنگ کے واقعات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں 56فیصد اضافہ ہوا ہے۔نیشنل لا انفورسمنٹ کے سربراہ کریگ فلائیڈ نے کہا کہ میں نے اپنی زندگی میں کبھی بھی ایسا نہیں دیکھا کہ فائرنگ کے واقعات میں اتنی بڑی تعداد میں افسر ہلاک ہوئے ہوں۔یہ افسران صرف اپنے یونیفارم اور اپنے کام کی وجہ سے مارے گئے، یہ اس معاشرے کے لیے نا قابل قبول ہے جس میں ہم رہتے ہیں۔ان حملوں کی وجہ سے امریکہ میں پولیس کی طرف سے خاص طور افریقی امریکیوں کے خلاف طاقت کے مبینہ استعمال کے معاملے پر ملک بھر میں ہونے والی بحث پیچیدہ ہو گئی ہے۔رواں سال 7جولائی کو ڈیلاس میں پولیس کی طرف سے طاقت کے بے جا استعمال کے خلاف ہونے والے ایک احتجاجی مظاہرے کے اختتام پر ایک شخص نے چھپ کر حملہ کیا۔اس واقعہ میں 5پولیس اہلکار ہلاک اور 9دیگر زخمی ہوئے، امریکہ میں نائن الیون حملوں کے بعد کسی ایک واقعہ میں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کی یہ سب سے بڑی تعداد تھی، نائن الیون حملوں میں 72پولیس اہلکار مارے گئے تھے۔ڈیلاس حملے کے چند دنوں کے بعد ہی امریکی ریاست لوزیانا کے شہر بیٹن روج میں ایک مسلح شخص کی فائرنگ سے تین پولیس افسر ہلاک اور تین زخمی ہو گئے تھے۔ یہ واقعہ اسی شہر میں پانچ جولائی کو پولیس کے ہاتھوں ایک سیاہ فام ایلٹن اسٹرلنگ کی ہلاکت کے بعد پیش آیا۔فلائیڈ نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے نئے افسروں کی بھرتی کے حوالے سے کوشاں ہیں اور جو اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں وہ درپیش خطرے کی بات کرتے ہیں۔فلائیڈ نے کہا کہ وہ ہمیشہ فکر مند رہتے ہیں، ہمیشہ انہیں اگلے حملے کی پریشیانی لاحق رہتی ہے جو کسی بھی وقت اور کسی بھی سمت سے ہو سکتا ہے۔

Share: