رام اللہ،29ستمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)فلسطین کے سرکاری سطح پر جاری کیے گئے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ 28ستمبر 2000ء کو فلسطین میں شروع ہونے والی تحریک انتفاضہ الاقصیٰ کے بعد اب تک ایک لاکھ فلسطینیوں کو صہیونی ٹارچر سیلوں میں ڈال کر انہیں اذیتیں دی گئیں۔فلسطینی محکمہ امور اسیران کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ سولہ برسوں میں صہیونی فوج اور ریاستی اداروں نے فلسطین کے ہرشعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو گرفتار کیا گیا اورا نہیں عقوبت خانوں میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔گرفتار کیے گئے تمام فلسطینیوں کو جسمانی، ذہنی، نفسیاتی اذیت رسانی کے ساتھ ان کی توہین و تذلیل کی گئی۔فلسطینی امور اسیران کے چیئرمین عبدالناصر فروانہ کا کہنا ہے کہ پچھلے سولہ سال میں 14 ہزار کم سن فلسطینی بچوں، ایک ہزار 500خواتین، 65فلسطینی ارکان پارلیمنٹ اور سابق وزراء کو گرفتار کرکے جیلوں میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس عرصے میں حراست میں لی گئی چار فلسطینی خواتین اسیرات نے صہیونی عقوبت خانوں میں بچوں کو جنم دیا، جیلوں میں نہایت مشکل حالات میں بچوں کو جنم دینے والی اسیرات میں بیت المقدس کی میرفت طہ، طولکرم کی منال غانم، سمیر صبح، فاطمہ الزوق شامل ہیں۔اس عرصے میں 26ہزار فلسطینیوں کو انتظامی حراست کی سزاؤں سے گذارا گیا۔ سنہ 2000ء میں گرفتارکیے گئے 85فلسطینیوں کو دوران حراست تشدد کر کے شہید کیا گیا۔ 290فلسطینیوں کو ملک بدر کیا گیا۔ 205فلسطینی اکتوبر سنہ 2011ء میں اس وقت فلسطین بدر کیے گئے جب انہیں صہیونی قید خانوں سے رہا کیا گیا۔