بنگلورو16؍ستمبر(ایس او نیوز) 12 ستمبر کو راجدھانی بنگلور میں کاویری احتجاج کے سلسلے میں پیش آئے پر تشدد واقعات سے نمٹنے کے نام پر بے قصور کنڑیگاؤں کو غیر ضروری طور پر شہر کی پولیس نے ہراساں کیا ہے، یہ الزام مختلف کنڑا نواز تنظیموں نے عائد کیا ہے ، ان تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس کی ان زیادتیوں کیلئے ذمہ دار اڈیشنل کمشنر آف پولیس ہری شیکھرن کو فوراً عہدہ سے برخاست کیا جائے۔ ان کنڑا تنظیموں نے کہا ہے کہ تملناڈو کے متوطن ہری شیکھرن بنگلور کے اڈیشنل کمشنر آف پولیس بنے ہوئے ہیں۔ کاویری کڑبڑ کے دوران اپنی تمل نوازی کا انہوں نے کھل کر مظاہرہ کیا اور کنڑیگاؤں کو نشانہ بنایا ۔سینکڑوں کنڑیگا احتجاجیوں کو گرفتار کرکے ان پر جھوٹے مقدمے درج کئے ہیں۔کرناٹکا رکشنا ویدیکے ، کنڑا وکوٹا، کنڑا چلوولی ، کنڑا سینے ، سارواجنکا جاگرتی ویدیکے اور دیگر تنظیموں نے ہری شیکھرن کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگایا ہے اور حکومت سے مانگ کی ہے کہ فوری طور پر ہری شیکھرن کے خلاف کارروائی کی جائے اور ان کے حکم پر گرفتار احتجاجیوں کو بلا شرط رہا کیا جائے۔ رکشنا ویدیکے کے صدر نارائن گوڈا نے کہاکہ ہری شیکھرن نے اپنے اختیارات کا بے جا استعمال کرتے ہوئے بے قصور کنڑیگاؤں کو گرفتار کیا اور ان کے مستقبل سے کھلواڑ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ریاست میں کسی بھی کنڑا مخالف افسر کی اجارہ داری کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہری شیکھرن کو فوراً برطرف کیا جائے۔ طلبا اور بے قصور نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے ، فوراً ان کو رہا کرنے کے احکامات صادر کئے جائیں۔ انہوں نے کہاکہ ایسے اہم عہدے حکومت ان افسران کے سپرد کرے جو ریاست کی زبان ، زمین ،پانی اور دیگر مفادات کے معاملہ میں کرناٹک کے تئیں وفادار ہوں۔ انتقامی رویہ نہ رکھتے ہوں۔ واٹال ناگراج نے کہاکہ جو بھی سرکاری افسر نے 12؍ ستمبر کے احتجاج کے دوران کنڑا مخالف رویہ اپنایا ہے اسے بخشا نہ جائے۔ انہوں نے کہاکہ شہر میں آتش زنی کے جو واقعات ہوئے ہیں ان کی اعلیٰ سطحی جانچ ہونی چاہئے۔ بلاوجہ کنڑا تنظیموں کو اس کیلئے ذمہ دار ٹھہرانا اور ان کے کارکنوں کو گرفتار کرنا سراسر زیادتی ہے۔