ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / سخت پابندیوں کے باوجود مسجد اقصیٰ میں ایک لاکھ نمازیوں کی تراویح

سخت پابندیوں کے باوجود مسجد اقصیٰ میں ایک لاکھ نمازیوں کی تراویح

Sun, 22 Feb 2026 12:37:15    S O News
سخت پابندیوں کے باوجود مسجد اقصیٰ میں ایک لاکھ نمازیوں کی تراویح

یروشلم   ، 22/ فروری (ایس او نیوز /ایجنسی)قابض اسرائیلی افواج کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے داخلی راستوں اور گرد و نواح میں عائد کردہ سخت فوجی پابندیوں اور رکاوٹوں کے باوجود جمعہ کی شام تقریباً ایک لاکھ نمازیوں نے مقبوضہ بیت المقدس میں قبلہ اول کے صحنوں میں نماز عشاء اور تراویح ادا کی۔ بیت المقدس میں اسلامی اوقاف کے محکمے نے رپورٹ دی ہے کہ اسرائیل کی جانب سے شہر میں داخلے پر لگائی گئی سخت پابندیوں اور بڑی تعداد میں شہریوں، بالخصوص مغربی کنارہ سے آنے والے فلسطینیوں کو روکنے کے باوجود دسیوں ہزار عشاقانِ رسولؐ مسجد تک پہنچنے اور نماز ادا کرنے میں کامیاب رہے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے فوجیوں نے دوپہر کے وقت سے ہی ہزاروں نمازیوں کو مسجد اقصیٰ پہنچنے سے روک دیا تھا، جبکہ بیت المقدس کے شمال میں واقع قلندیہ چیک پوسٹ اور بیت المقدس و بیت اللحم کے درمیان حائل چیک پوسٹ۳۰۰؍ سے بڑی تعداد میں فلسطینیوں کو زبردستی واپس بھیج دیا گیا۔ یہ پابندیاں ایک ایسے وقت میں لگائی گئی ہیں جب اسرائیل نے رمضان المبارک کے دوران نمازیوں کی آمد کو محدود کرنے کی مذموم کوشش کے تحت بیت المقدس، پرانے شہر کے گرد و نواح اور مسجد اقصیٰ کے دروازوں پر اپنی فوجی نفری میں غیر معمولی اضافہ کر رکھا ہے۔ علاوہ ازیں قابض اسرائیلی حکام نے گزشتہ چند دنوں کے دوران۳۰۰؍ سے زائد بیت المقدس کے مقامی مکینوں کو پورے ماہِ مقدس کیلئے مسجد اقصیٰ سے بے دخلی کے احکامات جاری کئے ہیں تاکہ انہیں عبادت کے حق سے محروم رکھا جا سکے۔

اسرائیلی حکومت کے نام نہاد وزیر برائے قومی سیکورٹی ایتمار بن گویر نے ماہ رمضان کے پہلے جمعہ کے موقع پر مقبوضہ بیت المقدس کے قدیم شہر کے گرد ونواح میں اسرائیلی افواج کی جانب سے نافذ کردہ سخت ترین فوجی اقدامات کے سائے میں مسجد اقصیٰ کے مقدس صحنوں پر دھاوا بول دیا۔ مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ ایتمار بن گویر نے اسرائیلی پولیس کی بھاری نفری کی حفاظت میں یہ اشتعال انگیز کارروائی کی، جہاں نمازیوں کے داخلے پر سخت پابندیوں کے ساتھ ساتھ مسجد کے دروازوں اور قدیم شہر کے داخلی راستوں پر قابض فورسز کی بڑی تعداد تعینات تھی۔ اس دھاوے کے دوران ایتمار بن گویر نے اسرائیلی پولیس چیف اور متعدد حکام کے ہمراہ ایک فیلڈ میٹنگ بھی کی، جس میں انہوں نے ماہ رمضان کے دوران مسجد اقصٰی میں مزید سخت ترین اقدامات نافذ کرنے کا مطالبہ کیا، اس قدم کو نمازیوں پر زمین تنگ کرنے کے سلسلے میں ایک نئی جارحیت قرار دیا جا رہا ہے۔

قبل ازیں اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے اس بات پر زور دیا کہ ماہ رمضان کی فضیلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مسجد اقصٰی کو اسرائیل کے ناپاک منصوبوں اور آباد کاروں کے مکروہ عزائم سے بچانے کے لیے عوامی سطح پر متحرک رہنے اور وہاں پہرہ دینے (رباط) کے عمل کو تیز کیا جائے۔ حماس نے مقبوضہ بیت المقدس اور اندرون فلسطین کے غیور بیٹوں سے اپیل کی کہ وہ اس ماہ مبارک کے ایام کو یہودیانے کے ان تمام منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے وقف کر دیں جو قابض اسرائیل اور آباد کار ہماری اسلامی مقدسات کے خلاف انجام دے رہے ہیں اور مسجد اقصٰی پر اپنے ثابت قدم مذہبی و تاریخی حق کا بھرپور اظہار کریں۔ فلسطینیوں اور اہالیان القدس کی جانب سے بھی ایسی آواز بلند کی گئی ہے جس میں ماہ رمضان کے دوران مسجد اقصٰی کی جانب کوچ کرنے، وہاں جم کر بیٹھنے اور پہرہ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے تاکہ قابض اسرائیل کے ان بڑھتے ہوئے عزائم کا مقابلہ کیا جا سکے جن کا مقصد مسجد اقصٰی کو اس کے وفاداروں سے خالی کر کے اسے فلسطینی ماحول سے کاٹنا ہے۔

قابض اسرائیلی افواج نے سنیچر کی صبح مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر چھاپہ مار مہم چلائی جس کے دوران فلسطینیوں کے گھروں پر حملے کیے گئے، تلاشی لی گئی اور شہریوں کو وحشیانہ تشدد و تذلیل کا نشانہ بنایا گیا۔ جنین کے جنوب میں واقع قصبہ یعبد کو قابض اسرائیلی افواج کی پانچ گھنٹے طویل جارحیت کا سامنا کرنا پڑا جس کے دوران حمد سا می مرعی کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ اسیر لیڈر عدنان حمارشہ کے بیٹے عمر کو کچھ دیر حراست میں رکھنے کے بعد رہا کیا گیا۔ اسی طرح قابض افواج نے متعدد گھروں پر چھاپے مارے اور اہل خانہ پر تشدد بھی کیا گیا۔ خلیل شہر کے مغرب میں واقع قصبہ بیت عوا پر حملے کے دوران قابض دشمن نے متعدد نوجوانوں کو بدترین سفاکیت کا نشانہ بنایا، جبکہ شہر کے مغرب میں ہی دير سامت سے شہریوں کی گاڑیاں چھین لیں۔ 


Share: