ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ’وقف ترمیمی بل 2024‘ پر جاری سرگرمیوں کے دوران وزارت برائے اقلیتی امور کے افسران کو سمن جاری

’وقف ترمیمی بل 2024‘ پر جاری سرگرمیوں کے دوران وزارت برائے اقلیتی امور کے افسران کو سمن جاری

Wed, 11 Sep 2024 18:07:22    S.O. News Service

نئی دہلی، 11/ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)’وقف (ترمیمی) بل 2024‘ پر غور کے لیے تشکیل دی گئی جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کی اب تک چار میٹنگیں ہو چکی ہیں۔ جے پی سی کے اراکین وقف اداروں اور معروف مسلم شخصیات سے مسلسل مشاورت کر رہے ہیں تاکہ ان کی رائے حاصل کی جا سکے۔ اسی دوران، راجیہ سبھا کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ ہفتے وزارت برائے اقلیتی امور کے سکریٹری اور دیگر نمائندوں کو بلایا جائے گا تاکہ وقف (ترمیمی) بل 2024 پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ اس بل کے ذریعے وقف (ترمیمی) قانون 2013 میں ترمیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ، راجیہ سبھا کمیٹی نے چھاؤنی ایکٹ 2006 کے تحت قانون سازی کے عمل میں تاخیر کے اسباب پر بھی وزارت دفاع کے افسران کو طلب کیا ہے۔

واضح رہے کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں زیر غور قوانین پر اپنی اپنی کمیٹیاں ہیں، جو اس بات کی جانچ کرتی ہیں کہ کسی قانون سے متعلق اصول اور ذیلی اصول وقت پر بنائے گئے ہیں یا نہیں، اور آئین کے التزامات کے مطابق ہیں یا نہیں۔ 2013 کے ایکٹ نے وقف بورڈس کو کچھ اختیارات دیے تھے۔

موصولہ اطلاع کے مطابق 2004 کا بل، جو ایک جوائنٹ پینل (جے پی سی) کے سامنے ہے، ایک سنٹرلائز پورٹل کے ذریعہ سے وقف املاک کے لیے رجسٹریشن کے طریقۂ کار میں اصلاح کرنا چاہتا ہے۔ یہ بل بی جے پی کی قیادت والی نو تشکیل این ڈی اے حکومت کی پہلی بڑی پیش قدمی ہے، جس کا مقصد ایک سنٹرلائز پورٹل کے ذریعہ سے وقف املاک کے لیے رجسٹریشن کے عمل میں اصلاح کرنا ہے۔

وقف (ترمیمی) بل 2024 میں کئی طرح کے اصلاحات کی تجویز ہے۔ مثلاً مسلم خواتین اور غیر مسلم نمائندوں کو نمائندگی دینے کے ساتھ ریاستی وقف بورڈس کے ساتھ ایک سنٹرل وقف کونسل قائم کرنے کا ارادہ نئے بل میں ظاہر کیا گیا ہے۔ بل کا ایک متنازعہ اصول ضلع کلکٹر کو یہ مقرر کرنے کے لیے پرائمری افسر کی شکل میں نامزد کرنے کی تجویز ہے کہ کوئی ملکیت وقف یا سرکاری اراضی کی شکل میں درج بند ہے یا نہیں۔


Share: