ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ’لاء کمیشن کاسوالنامہ بدنیتی پرمبنی،یکساں سول کوڈآئین ہندکے خلاف،ملک کوتوڑنے کی کوشش نہ کرے سرکار‘

’لاء کمیشن کاسوالنامہ بدنیتی پرمبنی،یکساں سول کوڈآئین ہندکے خلاف،ملک کوتوڑنے کی کوشش نہ کرے سرکار‘

Fri, 14 Oct 2016 15:31:19    S.O. News Service

نئی دہلی، 13؍اکتوبر(آئی این ایس انڈیا)آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اور ملک کی دیگراہم مسلم تنظیموں نے آج یکساں سول کوڈ پرلاء کمیشن کے سوالنامے کے بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا اور حکومت پر ان کی کمیونٹی کے خلاف’’جنگ‘‘چھیڑنے کا الزام لگایا۔انہوں نے مرکز کی مودی حکومت پرالزام لگایا کہ وہ یونیفارم سول کوڈ لاکر ملک کو توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔پریس کانفرنس میں دوٹوک اس موقف کااظہارکیاگیاکہ ملک کاتنوع برقرار رہنا چاہئے۔طلاق ثلاثہ پرحکومت کاموقف غلط ہے ۔یونیفارم سول کوڈکوآئین کے خلاف بتاتے ہوئے مسلم تنظیموں نے کہاکہ ہم کمیشن کابائیکاٹ کریں گے۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ مودی جی سرحدنہیں سنبھال پارہے ہیں لیکن ملک کے اندرجنگ کی تیاری میں ہیں۔مودی جی پہلے دشمنوں سے نمٹیں،اندردشمن نہ بنائیں۔اوریہ سب کچھ اپنی ڈھائی سالہ حکومت کی ناکامی کوچھپانے کیلئے کیاجارہاہے۔مسلم جماعتوں نے اعلان کیاکہ ہم اپنی آوازبلندکریں گے۔اورایسافیصلہ قطعی نہیں مانیں گے۔مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانامحمدولی رحمانی، جمعیت علمائے ہند کے صدرمولاناسید ارشد مدنی،قاری عثمان منصورپوری،جمیعۃ کے جنرل سکریٹری مولانامحمودمدنی، آل انڈیا ملی کونسل کے سربراہ ڈاکٹرمنظور عالم،بورڈکی مجلس عاملہ کی خاتون رکن ڈاکٹراسماء زہرا،جماعت اسلامی ہند کے عہدیدار محمد جعفر،ڈاکٹرقاسم رسول الیاس،جمیعۃ علمائے اہل حدیث کے مولاناعبدالوہاب خلجی ،جمیعۃ اہل حدیث کے ناظم عمومی مولانااصغرامام مہدی سلفی اوردارالعلوم دیوبندکے مہتمم مولاناابوالقاسم بنارسی جیسے اہم رہنماؤں نے یکساں سول کوڈکے نفاذاورمسلم پرسنل لاء میں مداخلت کی کوششوں کے معاملے پر حکومت کوگھیرا۔انہوں نے دوٹوک کہاکہ ہم یونیفارم سول کوڈقطعی طورپرنہیں مانیں گے ۔انہوں نے دعویٰ کیاکہ ملک کے اہم ایشوزمیں ناکام رہنے والی مودی سرکارتوجہ بھٹکانے کیلئے ایسے ایشوزاٹھارہی ہے۔ 

یہاں پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسلم تنظیموں نے دعویٰ کیا کہ اگر یکساں سول کوڈنافذکردیاجاتاہے تویہ سب لوگوں کو’’ایک رنگ‘‘میں رنگ دینے جیسا ہو گا، جو ملک کی تکثیریت اور تنوع کے لئے خطرناک ہو گا ۔ایک ساتھ تین طلاق کے معاملے پر حکومت کے رخ کو مسترد کرتے ہوئے ان تنظیموں نے دعویٰ کیا کہ ان کی برادری میں دیگر کمیونٹیز کے مقابلے میں، خاص طور پر ہندو کمیونٹی کے مقابلے میں طلاق کے معاملے کہیں کم ہیں۔بورڈکے جنرل سکریٹری مولانامحمدولی رحمانی نے کہاکہ بورڈ اور دوسری مسلم تنظیمیں ان مسائل پر مسلم کمیونٹی کو بیدار کرنے کیلئے پورے ملک میں مہم چلائیں گی اور اس کا تعارف لکھنؤ سے ہوگا۔

مولانا رحمانی نے یہ بھی کہا کہ بھارت جیسے کثرت میں وحدت والے ملک کے لئے یونیفارم سول کوڈ قطعی مناسب نہیں ہے۔یہاں مختلف مذاہب کے لوگ رہتے ہیں، تمام لوگ ایک آئین کے مطابق رہ رہے ہیں۔حکومت اس کو توڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔مولانا رحمانی نے حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ جس امریکہ کی یہاں جے کی جاتی ہے، وہاں بھی مختلف اسٹیٹ کا اپنا پرسنل لاء ہے۔ہماری حکومت ویسے تو امریکہ کی ہینگر ہے لیکن اس مسئلے پر اسکو فالو نہیں کرنا چاہتی۔انہوں نے کہاکہ لاء کمیشن کا کہنا ہے کہ معاشرے کے نچلے طبقے کے خلاف تعصب کو دور کرنے کیلئے یہ قدم اٹھایا جا رہا ہے، جبکہ یہ حقیقت نہیں ہے۔یہ کوشش پورے ملک کو ایک رنگ میں رنگنے کی ہے جو ملک کی تکثیریت اورتنوع کے لئے خطرناک ہے۔مولانارحمانی نے کہاکہ حکومت اپنی ناکامیوں سے لوگوں کی توجہ بھڑکانے کی کوشش میں ہے۔مجھے یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ وہ اس کمیونٹی کے خلاف جنگ چھیڑنا چاہتی ہے۔ہم اس کوشش کی پرزور مخالفت کریں گے۔بورڈکے عہدیداروں یہ مانا کہ معاشرہ میں پرسنل لاء کے حوالہ سے بیداری کی ضرورت ہے۔قانون کاغلط استعمال ہے جس کمی کو دور کیا جا رہا ہے۔جمعیت علمائے ہندکے صدرمولاناسید ارشد مدنی نے کہاکہ ملک کے سامنے کئی بڑے چیلنجز ہیں۔سرحد پر کشیدگی ہے۔معصوم لوگوں کی ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔حکومت کو یکساں ضابطہ اخلاق پر لوگوں کی رائے لینے کی بجائے، ان چیلنجوں پر توجہ دینا چاہئے۔جمعیۃ اہل حدیث کے ناظم عمومی مولانااصغرامام مہدی سلفی نے کہاکہ یکساں سو ل کوڈکے نفاذکی کسی بھی کوشش کی شدیدمخالفت کی جائے گی ۔انہوں نے میڈیاسے بھی غیرجانبدارانہ رول اداکرنے کوکہا۔یہ پوچھے جانے پر کہ مسلم کمیونٹی کے کچھ لوگوں نے ہی ایک ساتھ تین طلاق کے معاملے پر پرسنل لاء بورڈ کے رخ کی مخالفت کی ہے تومولانا رحمانی نے کہا کہ جمہوریت میں ہر کسی کو اپنی بات رکھنے کا پورا حق حاصل ہے۔واضح رہے کہ حال ہی میں مرکزی حکومت نے ایک ساتھ تین طلاق، حلالہ اورتعددازدواج کے معاملے پر سپریم کورٹ میں حلف نامہ دائر کرکے بورڈ کے رخ کی مخالفت کی اورکہاکہ یہ رواج اسلام میں لازمی نہیں ہیں۔بورڈ کی خاتون رکن اسماء زہرا نے کہاکہ پرسنل لاء میں کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں ہے۔ایک ساتھ تین طلاق کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے اور یکساں سول کوڈکومسلط کرنے کی سمت میں حکومت کاقدم لوگوں کے مذہبی آزادی کو چھیننے کے مترادف ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہم لوگ جدوجہد کر رہے ہیں۔لاء کمیشن نے سات اکتوبر کو عوام سے رائے مانگی کہ کیا تین طلاق کی رسم کو ختم کیا جائے اور ملک میں یکساں ضابطہ اخلاق نافذ کیاجائے۔


Share: