ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / یکساں سیول کوڈ پر لا کمیشن کا سوالنامہ بائیکاٹ کیا جائے گا،مسلم پرسنل لاء بورڈ کی دستخطی مہم کو کامیاب بنانے امیر شریعت کی صدارت میں عہد

یکساں سیول کوڈ پر لا کمیشن کا سوالنامہ بائیکاٹ کیا جائے گا،مسلم پرسنل لاء بورڈ کی دستخطی مہم کو کامیاب بنانے امیر شریعت کی صدارت میں عہد

Fri, 14 Oct 2016 15:41:16    S.O. News Service

بنگلورو۔13؍اکتوبر(ایس او نیوز) مرکزی حکومت کی طرف سے اپنے فرقہ پرستانہ ایجنڈا کو لاگو کرنے کی پہل کرتے ہوئے مرکزی لاکمیشن کے ذریعہ یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کے سلسلے میں جو سوالنامہ ترتیب دیا گیا ہے اس کا بائیکاٹ کرنے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے فیصلے پر ریاست بھر کے مسلمان عمل کریں گے۔ اس سلسلے میں ریاست کے تمام مسلم ادارے اور انجمنیں عوام میں بیداری لانے کا کام کریں گی۔ ساتھ ہی مرکزی حکومت کی طرف سے طلاق ثلاثہ کے متعلق سپریم کورٹ میں حلف نامہ دائر کرکے مسلم پرسنل لاء بورڈ نے مداخلت کی جو کوشش کی گئی ہے اس کی مخالفت کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی طرف سے شروع کی گئی دستخطی مہم کو بڑے پیمانے پر چلائیں گے۔ یہ اعادہ آج دارالعلوم سبیل الرشاد نے امیر شریعت مفتی محمد اشرف علی باقوی کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس کے بعد اخباری نمائندوں سے مخاطب ہوکر امیر شریعت نے کہاکہ مسلم پرسنل لاء بورڈ نے لاء کمیشن کے سوالنامہ کے بائیکاٹ کا جو فیصلہ اتفاق رائے سے لیا ہے اس کی ریاست میں بھی متفقہ طور پر پابندی کی جائے گی۔ انہوں نے لاء کمیشن کی طرف سے یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کے جواز پر جو 15 سوالات مرتب کئے ہیں وہ لہو اور بے معنی ہیں۔ پوری قوت کے ساتھ مسلمان اس سوالنامے کا بائیکاٹ کریں گے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کی طرف سے شروع کی گئی دستخطی مہم کو کامیاب بنانے کیلئے امیرشریعت نے ریاست گیر پیمانے پر بیداری لانے کی آواز دی اور تمام اداروں اور انجمنوں کے ذمہ داروں نے ریاستی سطح پر اپنے نیٹ ورک کا استعمال کرتے ہوئے اس مہم کو کامیاب بنانے پر اتفاق کیا۔ اجلاس سے مخاطب ہوکر مفتی محمد اشرف علی صاحب نے کہاکہ مرکزی حکومت اپنے خفیہ ایجنڈا کو مرحلہ وار عملی جامہ پہنانے کی کوشش بسیار کرتی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک کیلئے مرکزی حکومت اگر یکساں سول کوڈ ہی لانا چاہتی ہے تو قانون شریعت سے بہتر کوئی اور یکساں سیول کوڈ ہو ہی نہیں سکتا۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اس ضمن میں جو بھی ہدایات جاری کی ہیں ان کو عملی شکل دینے کیلئے جدوجہد کی جائے گی۔عام طور پر میڈیا اور دیگر ذرائع سے یہ تاثر پیدا کیا جارہاہے کہ طلاق ثلاثہ کے ذریعہ اسلام عورت پر ظلم کررہا ہے۔ جو کہ سراسر غلط ہے۔ بلکہ طلاق کی بدولت اسلام نے عورت کو ظالم شوہر سے چھٹکارا پانے کا موقع فراہم کیا ہے۔ طلاق ثلاثہ کے متعلق مسلمانوں اور غیر مسلموں میں جو غلط فہمیاں پیدا ہوگئی ہیں ان کو دور کرنے پر مفتی محمد اشرف علی صاحب نے زور دیا اور کہاکہ طلاق ایک ہو یا تین ہر حال میں واقع ہوتی ہے، محض تین طلاق کو بنیاد بناکر مذہب اسلام کو بدنام کرنے کا پروپگنڈہ شروع کیا گیا ہے۔ اس موقع پر مختلف جماعتوں اور تنظیموں کے نمائندوں نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مسلم پرسنل لاء بورڈ کی دستخطی مہم کو کامیاب بنانے کا عزم کیا۔ جمعیت العلماء کرناٹک کے صدر مفتی افتخار احمد قاسمی ،جماعت اسلامی ہند کرناٹک کے امیر محمد اطہر اﷲ شریف، جامع مسجد بنگلور سٹی کے خطیب وامام مولانا مسقصود عمران رشادی، جماعت اسلامی کے ڈاکٹر سعاد بلگامی ، کرناٹکا مسلم اڈوکیٹ فورم کے صدر جناب سی آر عبدالرشید، جنتادل (ایس) لیڈر سید شفیع اﷲ ، سراج ابراہیم سیٹھ، مولانا سید مصطفیٰ رفاعی، کرناٹکا اردو ٹیچرس کونسل کے صدر فیض اﷲ بیگ جنیدی، جمعہ مسجد کے امام وخطیب مولانا عبدالقادر شاہ واجد، عاصم افرزو سیٹھ خازن ملی کونسل کرناٹکا، سلیمان خان موتی نگر نائب صدر ملی کونسل موتی نگر، سید شفیع الرحمن سکریٹری یتیم خانہ اہل اسلام بنگلور، سید شاہد احمد جنرل سکریٹری ملی کونسل کرناٹک اور دیگر مختلف اداروں ، انجمنوں ، مساجد کے ذمہ داران عمائدین وغیرہ نے شرکت کی۔


Share: