ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / یڈیورپا کو حاشیہ پررکھنے بی جے پی کا ماسٹر پلان

یڈیورپا کو حاشیہ پررکھنے بی جے پی کا ماسٹر پلان

Mon, 31 Jul 2017 22:32:17    S.O. News Service

بنگلورو:31/جولائی(ایس او نیوز) آنے والے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو اس بار 150 سیٹوں پر کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے ہمہ وقت مستعد رہنے والے یڈیورپا کی امیدوں پر غالباً بی جے پی کے سرکردہ قائدین پانی پھیرنے کی تیاری خود ہی کرنے لگے ہیں، کیونکہ رشوت ستانی اور دیگر مقدمات میں گھرے یڈیورپا کو آنے والے اسمبلی انتخابات کے بعد وزیر اعلیٰ کی کرسی سے محروم کرنے کیلئے ریاستی بی جے پی میں ابھی سے ماسٹر پلان تیار ہوچکا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ جیسے ہی وزیر اعلیٰ سدرامیا نے ریاست کے طاقتور لنگایت طبقے کو علیحدہ مذہب کا درجہ دینے کی وکالت کی ،اس کے ساتھ ہی بی جے پی کو یہ خوف لاحق ہوگیا ہے کہ اب تک یہ طبقہ جو بی جے پی کا ہمنوا رہا ہے آنے والے دنوں میں سدرامیا کے اس کھیل کا نشانہ بن سکتا ہے، اور لنگایت ووٹ بینک کانگریس کی طرف جاسکتا ہے۔ وزیر اعلیٰ سدر امیا کی طرف سے جیسے ہی لنگایت طبقے کو علیحدہ مذہب کا درجہ دینے کی بات چھیڑی گئی ریاست بھر کے بیشتر لنگایت مٹھوں کے سربراہ ان کے ساتھ ہوچکے ہیں اور وہ بھی یہ مانگ کررہے ہیں کہ لنگایت طبقے کوعلیحدہ مذہب کا درجہ فوراً دلایا جائے اور اس کا شمار ملک کی اقلیتوں میں کیا جائے۔ان مذہبی رہنما ؤں کا ماننا ہے کہ لنگایت طبقے کا ہندو مذہب سے کچھ لینا دینا نہیں ہے، اس طبقے کا ایقان وحدانیت پر ہے۔ مورتیوں کی پوجا کو اس مذہب میں کوئی جگہ نہیں۔ لنگایت طبقے کو اس طرح بی جے پی سے الگ ہوتے دیکھ کر بی جے پی کی مرکزی قیادت نے بھی اسی طبقے سے وابستہ یڈیورپا کو حاشیہ پر لانے کا سلسلہ آگے بڑھادیا ہے اور آنے والے دنوں میں لنگایت کے بجائے وکلیگا فرقہ کو رجھانے کے مقصد سے مرکزی وزیر برائے منصوبہ بندی واعداد سدانند گوڈا کو ریاست کی سیاست میں سرگرم کرنے کی پہل کی ہے۔ بحیثیت وزیر اعلیٰ سدانند گوڈا کا گیارہ ماہ پر مشتمل مختصر دور اقتدار ریاست میں ان کیلئے بے داغ رہا ہے۔ پارٹی ان کی دیانتدار شبیہہ کو استعمال میں لانا چاہتی ہے۔ ایک طرف یڈیورپا پر مختلف مقدمات اور لنگایت طبقے میں پھوٹ کی وجہ سے پارٹی قیادت سدانند گوڈا کو آگے لانے کی کوشش میں ہے تودوسری طرف ساحلی کرناٹک میں سدانند گوڈا کا شمار مقبول لیڈروں میں کیا جاتا ہے۔ بی جے پی اس بات کیلئے کوشاں ہے کہ ان کی اس مقبولیت کا آنے والے انتخابات میں فائدہ اٹھاسکے۔ 


Share: