ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / یوپی کی وزیر سواتی سنگھ کی بڑھی مشکلیں،پولیس افسر کو دھمکانے والا پورا آڈیوریکارڈ

یوپی کی وزیر سواتی سنگھ کی بڑھی مشکلیں،پولیس افسر کو دھمکانے والا پورا آڈیوریکارڈ

Sun, 17 Nov 2019 19:21:20    S.O. News Service

لکھنؤ،17/نومبر(آئی این ایس انڈیا)  اتر پردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت کی وزیر سواتی سنگھ کی مشکلیں ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی ہیں۔ایک وائرل آڈیو کلپ میں وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے نام کا ذکر کرتے ہوئے سواتی ایک پولیس افسر کو دھمکاتے اور ایک بلڈر کے خلاف درج کیس منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

جس بلڈر کے حق میں سواتی کینٹ تھانے کے سرکل افسر بینو سنگھ پر کیس کو واپس لینے کا دباؤ بنا رہی ہیں، وہ انسل گروپ کے ہیں جو کہ پہلے سے ہی دھوکہ دہی کے ایک معاملے میں شامل ہیں۔29 ستمبر کو ریئل اسٹیٹ گروپ انسل اے پی آئی کے نائب صدر پرنب انسل کو دہلی ہوائی اڈے میں اس وقت حراست میں لے لیا گیا جب وہ مجرمانہ غداری، دھوکہ دہی اور جعل سازی سے متعلق معاملات کے سلسلے میں لندن نکلنے والے تھے۔

انسل کو بعد میں لکھنؤ لایا گیا اور جیل بھیج دیا گیا۔ہفتہ کو پہلے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے سواتی سنگھ کو پھٹکار لگائی اور پھر آڈیو کلپ کی تحقیقات کا حکم دیا۔ایسا مانا جا رہا ہے کہ انہوں نے پارٹی کے سامنے سواتی کے اس رویے کو لے کر ناراضگی ظاہر کی ہے اور ان کے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں۔

اتر پردیش میں اپوزیشن پارٹی یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت پر نشانہ لگانے کے لئے اس موقع کا جم کر فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ سماجوادی پارٹی نے یہ کہتے ہوئے ایک بیان جاری کیا ہے کہ یہ واقعہ یوگی حکومت میں بدعنوانی کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک وزیر کو ایک بدعنوان بلڈر کے حق میں کھل کر بات کرتے ہوئے سنا جا رہا ہے۔کانگریس اس سے ایک قدم آگے ہے، اس نے وزارت سے سواتی سنگھ کو برخاست کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اتر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر اجے کمار للو نے کہاکہ یوپی کی وزیر گھوٹالے باز انسل بلڈر کی پیروی میں لکھنؤ سی او کینٹ کو دھمکا رہی ہے۔وزیر جی کہہ رہی ہیں کہ سی ایم صاحب تک یہ بات ہے، اوپر سے حکم ہے کوئی ایف آئی آر نہیں ہونا چاہئے۔ گھوٹالے بازوں کا بی جے پی حکومت میں جلوہ دیکھئے، کس طرح وزیر جی قانون کے رکھوالوں کو دھمکا رہی ہیں۔اگر یوگی آدتیہ ناتھ صحیح معنوں میں بدعنوانی کی تحقیقات کرنے کے لئے مصروف عمل ہیں، تو وہ اس وزیر کو برخاست کر دیں گے۔وہیں ایس پی لیڈر آئی پی سنگھ نے کہا ہے کہ ایسے عنصر بی جے پی کے ایک مختلف پارٹی ہونے کے دعووں کو منہدم کر رہے ہیں۔اگر پولیس افسران کو وزراء کی طرف سے قانون کے خلاف کام کرنے کے لئے کہا جا رہا ہے، تو کوئی ریاست میں صورتحال کا تصور کر سکتا ہے۔اس دوران سواتی سنگھ نے اس کیس پر کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے اور تو اور صحافیوں نے جب اس پر ان کی رائے جاننے کے لئے ان سے رابطہ کیا تو وہ غصے میں آ گئیں۔ حالانکہ ان کے قریبی ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ یہ آڈیو کلپ کو ایڈٹ یا ترمیم کرکے پولیس افسر کے ذریعہ لیک کیا گیا ہے۔


 


Share: