آگرہ، 3/فروری (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)اتر پردیش کے وزیر اعلی اکھلیش یادو اور کانگریس نائب صدر راہل گاندھی نے آگرہ میں ایک بار پھر مشترکہ ریلی کی ہے۔اس سے پہلے دونوں لیڈروں نے لکھنؤ میں بھی مشترکہ روڈ شو کیا تھا۔اس کے بعد دونوں لیڈران 9/فروری کو کانپور میں بھی روڈ شو کریں گے۔حالانکہ دونوں ہی لیڈروں کی پارٹیوں کے درمیان اتحاد کو لے کر کچھ مسائل اب بھی حل ہونے باقی ہیں، لیکن روڈ شو جاری ہے۔گزشتہ ہفتے لکھنؤ میں دونوں لیڈرون کی پہلی مشترکہ موجودگی میں کافی تعداد بھیڑ جمع ہوئی تھی۔غور طلب ہے کہ اتحاد کی یہ مظاہرہ صرف رائے دہندگان کے لیے ہی نہیں ہے،بلکہ کیڈر کا حوصلہ بڑھانے کے لیے یہ بھی بہت ضروری ہے۔دونوں ہی لیڈروں کو اپنی اپنی پارٹی کے کارکنوں میں پیداہوتے عدم اطمینان کے جذبات کا خیال بھی رکھنا ہے۔جہاں کانگریس کو لگتا ہے کہ اتحاد میں اس کو جونیئر پارٹنر مانتے ہوئے 105سیٹیں دینا توہین آمیز ہے، وہیں سماج وادی پارٹی کو لگتا ہے کہ جس پارٹی کا مظاہرہ 2012کے اسمبلی اور پھر 2014کے لوک سبھا انتخابات میں مایوس کن رہا ہو، اس کے لیے اتنی سیٹیں ضرورت سے زیادہ ہیں۔واضح رہے کہ آگرہ میں 11/فروری کو ووٹنگ ہوگی،لکھنؤ کی ہی طرح یادو اور گاندھی جمعہ کو مشترکہ طورپر مرسڈیذ ایس یو وی سے بنے ’وجے رتھ‘ کے اوپر سے عوام کو خطاب کیا، بعد میں ان دونوں نے دلت لیڈر ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے مجسمہ پر خراج عقیدت پیش کیا۔غورطلب ہے کہ آگرہ کے دیہی علاقے میں دلت رائے دہندگان کی اکثریت ہیں، یہاں دلت ووٹ کی تعداد 21فیصد ہے۔جہاں ایک طرف کانگریس،سماجوادی پارٹی میں سیٹوں کو لے کر اتھل پتھل چل رہی ہے، وہیں بدھ کو ایک اور اختلاف پیداہوگیا تھا۔ذرائع کے مطابق،دونوں ہی پارٹیوں کے مقامی لیڈر چاہتے ہیں کہ آگرہ کے روڈ شو کا آغاز اس علاقے سے ہونی چاہیے جہاں سے ان کے امیدوار لڑ رہے ہیں،اس وجہ سے روڈ میپ کو عملی جامہ پہنانے کا کام کافی پیچیدہ ہو گیا ہے اور مقامی انتظامیہ کے ساتھ ضروری رسم پوری کرنے میں بھی تاخیر ہوتی چلی گئی۔کانگریس چاہتی ہے کہ مہم کا آغاز جنوبی آگرہ سے ہو، وہیں ایس پی آگرہ شمال سے ریلی کو شروع کرنا چاہتی ہے، جہاں ایک جوتا کمپنی کی کروڑپتی مالک نذیر احمد، جنوبی آگرہ سے کانگریس کے امیدوار ہیں، وہیں آگرہ ساؤتھ سے ہوٹل مالک اتل گرگ ایس پی کی جانب سے میدان میں ہیں اور ان کے سامنے بی جے پی امیدوار اور چار بارکے فاتح جگن پرساد گرگ کھڑے ہیں۔حالانکہ آخر میں سماج وادی پارٹی کی بات ہی مانی گئی، لیکن اس کے ساتھ ہی ایک بار یہ ظاہر ہوگیا کہ اس اتحاد کی گانٹھ بڑی ڈھیلی ہے۔