قاہرہ،15؍اکتوبر(ایس اونیوز ؍آئی این ایس انڈیا)مصر کی معروف علمی درس گاہ الازہر نے یونیسکو کی جانب سے اس عرب قرار داد کے حق میں ووٹ دیے جانے کا خیر مقدم کیا ہے جس میں باور کرایا گیا ہے کہ مسجد اقصی اور اس کا پورا حرم مقدس اسلامی مقامات ہیں اور یہ مسلمانوں کی عبادت کے لیے مخصوص ہیں۔الازہر کی رصدگاہ کے مطابق یہ فیصلہ فلسطینی عوام اور دنیا بھر میں مسلمانوں کی خواہش کی فتح ہے۔ رصدگاہ نے مسئلہ فلسطین کے جامع اور منصفانہ حل کے لیے فوری طور پر متحرک ہونے کی ضرورت پر زور دیا جس کے تحت اسرائیلی قبضے کا خاتمہ ہو، لوگوں کو ان کے حقوق لوٹائیں جائیں ، بیت المقدس شہر کے مذہبی اور ثقافتی تشخص اور ورثے کو برقرار رکھا جائے ، فلسطینی قوم کے حقوق تسلیم کیے جائیں اور مسجد اقصی اور مقبوضہ بیت المقدس کے خلاف صہیونی کارروائیوں کا سلسلہ روک دیا جائے۔
دوسری جانب مصر کے مفتی ڈاکٹر شوقی علام نے ’’یونیسکو‘‘تنظیم کے اس فیصلے کو سراہا ہے جس میں مسجد اقصی کو صرف مسلمانوں کا خاص مقدس مقام شمار کیا گیا ہے جس میں یہودیوں کا کوئی حق نہیں۔انہوں نے عرب اور اسلامی دنیا سے مطالبہ کیا کہ یونیسکو کے فیصلے سے مستفید ہونے کے لیے فوری طور پر حرکت میں آیا جائے۔اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم ’’یونسکو‘‘نے پیرس میں 58ممالک کی موجودگی میں اس قرار داد کو منظور کیا جس کے مطابق بیت المقدس میں مسجد اقصی کا یہودیوں سے کوئی تعلق نہیں اور یہ مسلمانوں کا مقدس مقام ہے۔