ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / یوم طیش: ہریانہ اور پنجاب میں اپوزیشن جماعتوں نے نکالا احتجاجی مارچ

یوم طیش: ہریانہ اور پنجاب میں اپوزیشن جماعتوں نے نکالا احتجاجی مارچ

Tue, 29 Nov 2016 02:24:43    S.O. News Service

چنڈی گڑھ، 28نومبر(آئی این ایس انڈیا/ ایس او نیوز) ہریانہ اور پنجاب میں کئی مقامات پر کانگریس سمیت حزب اختلاف کی جماعتوں نے نوٹ بندی کے خلاف ملک بھر میں ”جن آکروش دیوس“ یعنی یوم طیش کے تحت احتجاجی مظاہرہ کیا جس سے عام زندگی متاثر رہی۔نعرے بازی کرتے ہوئے انہوں نے نوٹ بندی مہم سے لوگوں کو ہو رہی پریشانیاں کم کرنے کے لئے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔حصار میں بڑی تعداد میں کانگریسی کارکنوں نے جلوس نکالا،وہ ناگوری گیٹ کے سامنے جمع ہوئے اور بعد میں انہوں نے مختلف بازاروں سے ہوتے ہوئے مارچ نکالا۔ہریانہ کے ریاستی کانگریس نائب صدر جے پال لالی اور دیگر پارٹی لیڈران نے الزام لگایا کہ نوٹ بندی ایک سیاسی مہم ہے جو بدعنوانی کے خلاف جدوجہد کے طور پرپیش کی جارہی ہے۔جن آکروش دوس ریلی کو کئی دیگر کانگریسی لیڈروں نے خطاب کیا جنہوں نے دعوی کیا کہ اس منصوبہ بندی کے اعلان ہونے کے بعد سے اقتصادی سرگرمیاں تھم گئی ہیں۔ہریانہ کے اہم اپوزیشن انڈین نیشنل لوک دل نے حصار میں ضلع انتظامیہ کو میمورنڈم سونپا اور پارٹی نے دعوی کیا کہ 500اور 1000روپے کے نوٹ کالا دھن واپس لانے کے وزیر اعظم کے وعدے کو پورا کرنے میں حکومت کی ناکامی کو ڈھکنے کے لئے بند کر دیئے گئے۔ویسے فتح گڑھ صاحب میں زیادہ تجارتی اور تعلیمی ادارے معمول کے مطابق کھلے رہے۔پنجاب کے اہم صنعتی شہر لدھیانہ میں دکانیں، فیکٹریاں، نقل و حمل کے مقامی اور دوسرے ذرائع معمول کی طرح چلتے رہے۔ویسے گھنٹہ گھر چوک پر کانگریس نے مخالفت میں ریلی نکالی۔کانگریسی کارکنوں کے ایک گروپ نے نریندر مودی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔روپڑ ضلع میں کانگریس اور بائیں محاذ نے الگ الگ احتجاجی مارچ نکالا،ضلع بار ایسوسی ایشن بھی کام سے دور رہا


Share: