تہران،17؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)ایران کے نیول چیف ایڈمرل حبیب اللہ سیاری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران کے جنگی بحری جہازوں کو عالمی پانیوں میں بھیجنے کا مقصد ایرانی انقلاب کی نشرو اشاعت اور اس کی تبلیغ ہے۔ ایرانی نیول چیف کی طرف سے یہ بیان اس اعلان کے دو روز بعد سامنے آیا ہے جس میں تہران نے کہا تھا کہ اس نے دو جنگی بحری جہاز خلیج عدن کے ساحل اور یمن کی باب المندب بندرگاہ کی طرف روانہ کیے ہیں۔یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں کو اسلحہ کی سپلائی کے حوالے سے ایرانی حکومت اور پاسداران انقلاب کے قائدین کے بیانات میں کھلا تضاد موجود ہے۔ ایک طرف ایران کا دعویٰ ہے کہ وہ یمن کے حوثی باغیوں کی مسلح مدد نہیں کررہا ہے مگر دوسری جانب تہران حوثی باغیوں کو سعودی عرب پر حملوں کے لیے زلزال 3 جیسے میزائل مہیا کررہا ہے۔ یہ میزائل بحری جہازوں کے ذریعے حوثیوں تک پہنچائے جا رہے ہیں۔
ایران بحری جہازوں کی باب المندب اور خلیج عدم آمد کے دعوؤں کے جلو میں تین بار حوثی باغی سمندر میں موجود امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنا چکے ہیں۔ حوثیوں کی طرف سے امریکی جنگی جہاز یو ایس میسن پر بحر احمر میں راکٹ برسائے مگر جہازکے خود کار دفاعی نظام نے راکٹ حملے ناکام بنا دیئے تھے۔ امریکی بھی تکرار اور اصرارکے ساتھ یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ اس کے بحری جہازوں کو جن راکٹوں اور میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا وہ ایران سے درآمد کردہ تھے۔
گذشتہ جمعرات کو ایرانی پاسداران انقلاب کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ اس نے الوند جنگی بحری جہاز اور اس کی مدد کے لیے بو شہر بحری جہاز خلیج عدن اور یمن کی باب المندب گذرگاہ کی طرف روانہ کیے ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ دونوں بحری جہاز اپنے مختص مقامات پر غیرمعینہ مدت تک رکیں گے تاکہ وہاں سے گذرنے والے ایرانی مال بردار جہازوں کو کسی قسم کے خطرے سے بچایا جاسکے۔ ایرن کی جانب سے اس بحری مشن کے لیے گروہپ 44 کا نام دیا گیا۔ اس سے قبل ایران گروپ 43کے نام سے بحری جہازوں کی ایک کھیپ جنوبی افریقا اور بحر اوقیانوس کے ساحلوں کے لے تنزانیا کی طرف بھی روانہ کرچکے ہیں۔
یمن کے قریب دفاعی اور تزویراتی مقاصد کے لیے موجود امریکی جنگی بیڑے یو ایس میسن پر یمن کے حوثی باغیوں نے تین بار ناکام میزائل حملے کیے۔ تینوں بار یہ حملے اگرچہ ناکام رہے مگر امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ہدف تک پہنچے سے قبل مار گرائے گئے راکٹ ایران ساختہ ہیں جنہیں زلزال 3کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ میزائل متعدد بار یمن سے سعودی عرب پر بھی داغے جا چکے ہیں۔امریکا کے ایک سرکردہ رکن کانگریس جان مکین کا کہنا ہے کہ خلیج عدن میں کھڑے امریکی جہاز یو ایس میسن پر جو راکٹ داغے گئے، وہ ایران کی جانب سے حوثیوں کو فراہم کیے گئے تھے۔ ان حملوں نے یہ ثابت کردیا ہے کہ ایران حوثی باغیوں کی ہرممکن مسلح مدد کر رہا ہے۔ باغیوں کو بلیسٹک میزائل تک فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ اتحادی ممالک کو ان سے نشانہ بنایا جاسکے۔
ایران کی جانب سے حوثی باغیوں کو نہ صرف بیلسٹک میزائل فراہم کیے جا رہیہیں بلکہ بلکہ سعودی عرب کی قیادت میں سرگرم عرب اتحاد کو نشانہ بنانے کے لیے ایران اپنے مال بردار جہازوں کے ذریعے حوثیوں کو ہلکے اور درمیانے درجے کے جنگی ہتھیار اور دیگر سامان حرب وضرب بھی مہیا کررہا ہے۔مختلف اتحادی ممالک نے ایران کی جانب سے یمن کے حوثیوں کو ارسال کردہ اسلحہ پکڑا ہے۔ عرب ممالک نیایرانی اسلحے سے لدے کئی بحری جہاز پکڑے جن میں بارودی سرنگوں سمیت ہرطرح کا اسلحہ لادا گیا تھا۔رواں سال 12جولائی کو جنوبی یمن کے علاقے عدن کے گورنر میجر جنرل عید روس الزبیدی نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ماہی گیروں کی ایک کشتی قبضے میں لی جس پر ایرانی اسلحہ لادا گیا تھا۔ یہ کشتی ساحل افریقا کی طرف سے روانہ کی گئی تھی۔ انہوں نے الزام عاید کیا کہ حوثی باغی عیدالفطر کی آڑ میں ایران سے بھاری مقدار میں اسلحہ حاصل کررہے ہیں۔
قبل ازیں 4اپریل کو امریکی فوج نے ایران کے دو مال برداربحری جہاز سمندر میں روک کر ان کی تلاشی لی تو پتا چلا کہ ان پر بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود لادا گیا ہے اور اسے یمن کے حوثی باغیوں کے لیے روانہ کیا جا رہا ہے۔ ان جہازوں پر 1500کلاشنکوفیں، 200مارٹر گولے، 21خود کار رائفلیں اور دیگر اسلحہ شامل تھا۔27 فروری کو آسٹریلوی حکام نے ایران کا ایک مال بردار جہاز پکڑا جس پر 2000کلاشنکوفیں ، 100مارٹر گولے اور دیگر اسلحہ جب کہ 20مارچ کو پکڑے گئے بحری جہاز سے 2000کلاشنکوفیں، دسیوں خود کار رائفلیں اور نو ٹینک شکن میزائل قبضے میں لیے گئے تھے۔مئی 2015ء کو سلامتی کونسل میں ایک سیکریٹ رپورٹ پیش کی گئی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران سنہ 2009ء سے چپکے سے یمن کے حوثی باغیوں کو مسلسل اسلحہ فراہم کررہا ہے۔ سنہ 2013ء کو یمنی حکام نے ایران کے جیھان بحری جہاز قبضے میں لے کر اس سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود قبضے میں لیا تھا۔فروری 2011ء میں بھی یمنی حکام نے ایران کی ایک ماہی گیر کشتی قبضے میں لی جو مبینہ طور پر 900ٹینک شکن راکٹ ایران سے حوثیوں تک پہنچانے کے لیے بھیجی گئی تھی۔