صنعاء،29؍جنوری(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)یمن کے ایک علاقے میں امریکی فوجیوں کی خصوصی عسکری کارروائی کے دوران تیس عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ اِس آپریشن کی زد میں آ کر دس عام شہری بھی مارے گئے ہیں۔ تیس عسکریت پسندوں کا تعلق القاعدہ سے بتایا گیا ہے۔ اِس امریکی کارروائی کی یمن کے صوبائی حکام نے تصدیق کی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصبِ صدارت سنبھالنے کے بعد یمن میں امریکی فوج کی یہ پہلی منظم کارروائی ہے۔ ٹرمپ نے اِس عزم کا اظہار کر رکھا ہے کہ وہ اسلامی انتہا پسندی کا صفایا کر دیں گے۔مہاجرین سے متعلق پالیسی میں غلطیاں ہوئی ہیں، جرمن وزیر خزانہجرمنی کے وزیر خزانہ وولف گانگ شوئبلے نے اعتراف کیا ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں مہاجربن سے متعلق کھلی پالیسی جاری رکھنے کے دوران غلطیاں سرزد ضرور ہوئی ہیں لیکن ان سے سبق سیکھنے کا عمل جاری ہے۔ شوئبلے نے کہا کہ سن 2015 کے دوران جو کچھ غلط ہو چکا ہے، اب اْس کو بہتر کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ جرمن وزیر خزانہ نے یہ بھی کہا کہ سیاستدان بھی انسان ہیں اور وہ بھی غلطیوں کا ارتکاب کر سکتے ہیں۔ شوئبلے کے مطابق سارے یورپ میں جرمنی کی طرز جیسی سماجی پالیسیوں کو ہم آہنگ کیا جانا ضروری ہے۔ جرمن وزیر خزانہ کا بیان اخبار ’ویلٹ ام زونٹاگ‘ میں شائع ہوا ہے۔انیس سالہ فلسطینی اسرائیلی فوجیوں کی گولی کا نشانہ بن گیااسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک انیس سالہ فلسطینی نوجوان ہلاک ہو گیا۔ اس کے علاوہ اس فائرنگ کے نتیجے میں پانچ دوسرے فلسطینی زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے اس مناسبت سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ جنین کے مہاجر کیمپ میں تشدد کے ایک واقعے کے بعد اسرائیلی فوجی اس کی تفتیش کے لیے کیمپ میں داخل ہوئے تھے۔ بیان کے مطابق کیمپ کے چند رہائشیوں نے اشتعال میں آ کر فوجیوں پر پائپ بم پھینکے اور جوابی کارروائی میں ایک فلسطینی کی ہلاکت ہوئی۔ یہ کیمپ ویسٹ بینک کے شمالی علاقے میں واقع ہے۔