ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / یشونت سنہا نے’’راشٹر منچ‘‘بنایا ، شتروگھن بھی ساتھ

یشونت سنہا نے’’راشٹر منچ‘‘بنایا ، شتروگھن بھی ساتھ

Wed, 31 Jan 2018 12:28:22    S.O. News Service

نئی دہلی،30جنوری(یو این آئی) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے باغی لیڈر یشونت سنہا نے پارٹی میں اپنے ساتھی اور رکن پارلیمان شتروگھن سنہا اور کانگریس، ترنمول کانگریس ، عام آدمی پارٹی کے لیڈروں اور مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر کے کچھ کسان لیڈروں کے ساتھ مل کر ایک سیکولر سیاسی پلیٹ فارم ’’راشٹر منچ‘‘کے قیام کا آج اعلان کیا۔بابا ئے قوم مہاتما گاندھی کی70ویں برسی پر راج گھاٹ میں ان کی سمادھی پر گلہائے عقیدت پیش کرنے کے بعد مسٹر سنہا نے یہاں کنسٹی ٹیوشن کلب میں اپنے سیاسی لیکن غیر جماعتی پلیٹ فارم کے قیام کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہاکہ یہ پلیٹ فارم ملک کو درپیش اہم امورکو عوام تک لے جانے اور انہیں بیدار بنانے کے لئے ایک تحریک کاکام کرے گا اور اسے کبھی بھی سیاسی جماعت نہیں بننے دیا جائے گا۔اس موقع پر سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کی رکن پارلیمان رینوکا چودھری ، ترنمول کانگریس کے دنیش ترویدی، عام آدمی پارٹی کے ترجمان اور سابق نامہ نگار آشوتوش، سماج وادی پارٹی کے گھنشیام تیواری وغیرہ بھی موجود تھے ۔مسٹر سنہا نے اپنی تحریک سے وابستہ سابق سفارتکار کے سی سنگھ، مدھیہ پردیش کے کسان لیڈر شیو کمار سنگھ’’ککا‘‘ مہاراشٹر کے کسان لیڈر پرشانت بوانڈے ، شنکر انا، پروفیسر دیپک گھوٹے وغیرہ کا بھی تعارف کرایا اور یہ بھی اعلان کیا کہ وہ یکم فروری کو پریشان کسانوں کے ساتھ مدھیہ پردیش کے نرسنگھ پور میں تحریک چلائیں گے ۔انہوں نے کہاکہ ہم سب لوگ خیالات سے جڑے ہوئے ہیں نہ کہ سیاسی جماعت کی رکنیت کی بنیاد پر۔ ملک میں جیسے حالات بن رہے ہیں اس سے تحریک میں شامل لوگوں کے دلوں میں یکسا ں طورپر فکرمندی ہے ۔انہوں نے کہاکہ آج سچ بولنا توہین کرنے کے مترادف ہے ۔ 

سرکار کو لگتا ہے کہ پروپگنڈہ کرنے سے سب ٹھیک ہوسکتا ہے جبکہ فیکٹ (اعدادو شمار) ہدایت دے کر تیار کئے جارہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ملک کو آزاد ہوئے 70برس ہوچکے ہیں لیکن آج بھی ملک ان ہی مسائل سے دوچار ہے جن سے 70برس قبل متاثر تھا۔انہوں نے کہاکہ ان کے پلیٹ فارم کا مقصد جمہوریت اور اداروں کا تحفظ کرنا ، ملک کے60کروڑ کسانوں کی فکر کرنا، روزگار کے مواقع بڑھانا، شہری اور دیہی آبادی کا معیار زندگی بہتر کرنا ، خواتین کے وقار اور کمزور طبقوں اور اقلیتوں کے آئینی حقوق کا تحفظ کرنا ہے ۔


Share: