بنگلورو۔3/دسمبر(ایس او نیوز) ریاستی لیجسلیچر کا سرمائی اجلاس بلگاوی کے سورنا سودھا میں آج ہنگامہ آرائی کے درمیان غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردیا گیا۔ بی جے پی نے آج ریاستی وزیر برائے بنیادی وثانوی تعلیمات تنویر سیٹھ کو نشانہ بنایا اور حال ہی میں ٹیپو سلطان جینتی کے موقع پر موبائل پر عریاں تصاویر دیکھنے کی پاداش میں استعفیٰ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایوان کی کارروائی چلنے نہیں دی۔ آج جیسے ہی کارروائی شروع ہوئی، بی جے پی نے اس مسئلے پر کل سے شروع ہوئے اس ہنگامے کو جاری رکھا اور مانگ کی کہ فوری طور پر تنویر سیٹھ اپنے عہدہ سے استعفیٰ دیں یا وزیراعلیٰ سدرامیا انہیں وزارت سے برطرف کریں۔ جیسے ہی کارروائی کا آغاز ہوا بی جے پی کے اراکین تنویر سیٹھ کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے اسپیکر کے سامنے جمع ہوگئے۔ اسپیکر نے گذارش کی کہ دھرنا ختم کرکے وقفہئ سوالات چلانے کا موقع فراہم کریں، لیکن بی جے پی ممبران نے اسپیکر کی ایک نہ سنی اور ہنگامہ جاری رکھا۔ اپوزیشن لیڈر جگدیش شٹر نے کہاکہ موبائل میں عریاں تصاویر ایک سرکاری تقریب کے دوران دیکھنے والے تنویر سیٹھ کو سرکاری عہدہ پر بنے رہنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں۔ فوری طور پر انہیں استعفیٰ دینا چاہئے یا وزیراعلیٰ سدرامیا کوانہیں وزارت سے برطرف کرنا چاہئے۔ ریاست کے وزیر تعلیمات کو کروڑوں بچوں کیلئے ایک ماڈل ہونا چاہئے، لیکن خودوزیر تعلیمات اگر موبائل پر ننگی تصاویر دیکھے تو بچوں پر اس کا کیا اثر مرتب ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ ایسے وزیر کا دفاع کرکے حکومت اپنی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کررہی ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس حکومت میں شرم وحیا نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ بی جے پی پرشدید نکتہ چینی کرتے ہوئے وزیر قانون ٹی بی جئے چندرا نے کہاکہ محض سیاسی فائدہ کیلئے بی جے پی مسلسل اقلیتی نمائندوں کو نشانہ بناتی آرہی ہے۔اسمبلی کی کارروائیوں میں رخنہ ڈالنا اس کا مقصد ہے۔ بلگاوی میں لیجسلیچر اجلاس کا اہتمام شمالی کرناٹک کے سلگتے مسائل پر بحث کیلئے کیاگیا،لیکن بی جے پی کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وزیراعلیٰ سدرامیا نے اس مرحلے میں مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ غیر ضروری تنازعات کھڑا کرنے کے علاوہ بی جے پی کو کوئی اور کام نہیں رہ گیا ہے۔ جھوٹ بولنے میں بی جے پی کا کوئی ثانی نہیں اور سچ بولنے والے بی جے پی کی نظروں میں کھٹکتے ہیں۔ تنویر سیٹھ پر الزامات میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ان سے تفصیلات حاصل کرلی گئی ہیں۔ اچانک ان کے فون پر یہ تصاویر نمودار ہوئی ہیں، اس سلسلے میں انہوں نے وضاحت بھی کی ہے، پھر بھی حکومت نے ان کے خلاف سی آئی ڈی کے شعبہئ سائبر کرائم کی طرف سے جانچ کی ہدایت دی ہے۔ اس کے باوجود بھی محض تنویر سیٹھ چونکہ اقلیتی طبقے سے وابستہ ہیں بی جے پی ان کے استعفیٰ کا غیر ضروری مطالبہ کررہی ہے۔اس سے پہلے ڈی وائی ایس پی گنپتی کی خود کشی کے معاملے میں اقلیتی طبقے سے وابستہ کے جے جارج کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہاکہ تنویر سیٹھ کے استعفیٰ کا کوئی سوال ہی نہیں اٹھتا۔ انہوں نے اسپیکر کے بی کولیواڈ سے کہاکہ بی جے پی کی فہرست کے مطابق ایوان کی کارروائیاں نہیں چلائی جاسکتیں، وہ ایوان میں طے شدہ ایجنڈے کے مطابق کارروائی چلائیں۔اس پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ حکومت کو اگر ذرا بھی عزت کا خیال ہے تو ایسے وزیر کو برطرف کردینا چاہئے۔ اسی بات پر حکمران اور اپوزیشن پارٹیوں کے ممبران میں شور وغل مچ گیا، کچھ دیر کیلئے کارروائی ملتوی کرنی پڑی۔ بعد میں جب دوبارہ اجلاس شروع ہوا تو بی جے پی اپنی ضد پر اڑی رہی، حکومت کے خلاف بی جے پی اراکین نعرہ بازی کررہے تھے۔ ایوان کے کاغذات پھاڑکر ان لوگوں نے اپنے غم وغصہ کا اظہار کیا۔ اس مرحلے میں وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشور کی طرف سے وزیر قانون ٹی بی جئے چندرا نے خود کشی کرنے والے آئی اے ایس آفیسر ڈی کے روی کے معاملے میں سی بی آئی کی طرف سے کی گئی جانچ رپورٹ کے متعلق ایک بیان پڑھا اور رپورٹ ایوان میں پیش کردی، جس کے فوراً بعد اسپیکر کے بی کولیواڈ نے ایوان کی کارروائیوں کو غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردیا۔