جڈیجہ کے سامنے انگلینڈکا بلے بازوں گھٹنے ٹیکے،ٹیسٹ کیریئرکی بہترین بالنگ،لئے7وکٹ
چنئی ،20دسمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)روندر جڈیجہ کی کرشمائی بولنگ اور عمدہ فیلڈنگ کے دم پر ہندوستان نے ایم اے چدمبرم اسٹیڈیم کی فلیٹ نظر آرہی پچ پر انگلینڈ کو پانچویں اور آخری ٹیسٹ کرکٹ میچ میں آج یہاں اننگز اور 75رنز سے کراری شکست دے کر پانچ میچوں کی سیریز 4-0سے جیت لی۔انگلینڈ نے صبح جس طرح سے شروعات کی تھی اس سے لگ رہا تھا کہ وہ میچ بچانے میں کامیاب رہے گا لیکن اس کے بعد جڈیجہ کا جادو چلا جنہوں نے اپنے کیریئر کی بہترین بولنگ کرتے ہوئے 48رنز دے کر سات وکٹ لئے،اس کے علاوہ انہوں نے تین کیچ بھی لپکے اور صرف دو سیشن کے اندر انگلینڈ کے دس وکٹ نکالنے اور اس کی اننگز 207رنز پر سمیٹنے میں اہم کردار نبھایا۔جڈیجہ نے ایک میچ میں بھی اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور 154رنز دے کر10 وکٹ لئے۔انگلینڈ نے اپنی پہلی اننگز میں 477رنز بنائے تھے جس کے جواب میں ہندوستان نے کرو نائر(ناٹ آؤٹ 303)رنز کی تہری سنچری اور لوکیش راہل(199)کی بڑی سنچری کے دم پر اپنی اننگز سات وکٹ پر 759رنز پر اننگز ڈکلیئر کی۔ہندوستان نے اس طرح سے پہلی اننگز میں 282رنز کی برتری حاصل کی تھی۔انگلینڈ نے آج صبح جب آغازکیا تو وہ ہندوستان سے 270رنز پیچھے تھا۔پہلا سیشن انگلینڈ کے نام رہا لیکن دوسرے سیشن سے کہانی بدل گئی۔انگلینڈ نے 104رنز کے اندر اپنے تمام وکٹ گنوا دئے۔ہندوستان نے گزشتہ 18ٹیسٹ میں کوئی میچ نہیں گنوایا ہے جو کہ نیا ہندوستانی ریکارڈ ہے۔یہی نہیں اس نے اس سال کل نو ٹیسٹ میچوں میں جیت درج کی۔یہ ایک کیلنڈر سال میں ہندوستان کی سب سے بہترین کارکردگی ہے۔اس سے پہلے اس نے 2010میں آٹھ ٹیسٹ میچ جیتے تھے۔انگلینڈ کی ٹیم مسلسل دوسرے میچ میں پہلی اننگز میں 400رنز کا اسکور بنانے کے باوجود شکست کا سامنا کرنے والی دوسری ٹیم بھی بن گئی۔اس سے پہلے 2010میں آسٹریلیا نے ہندوستان کے خلاف ہی مسلسل دو میچ اس طرح گنوائے تھے۔یہ پہلا موقع ہے جبکہ ہندوستان نے انگلینڈ کو کسی سیریز میں 4-0سے شکست دی۔اس سے پہلے اس نے اپنے اس مخالف کو 1993میں اپنی سرزمین پر 3-0سے شکست دی تھی۔
ہندوستان پہلے سیشن میں وکٹ حاصل نہیں کر پایا۔کپتان ایلسٹر کک(49)اور کیٹن جیننگز(54)نے کچھ متضاد لمحات سے گزرنے کے باوجود ہندوستان کو پہلے سیشن میں کامیابی نہیں ملنے دیا اور صبح بغیر کسی نقصان کے 12رنز سے اسکور 97رنز پر پہنچایا، لیکن جس طرح سے بنگلہ دیش کے خلاف میر پور میں انگلینڈ نے 64رنز کے اندر دس وکٹ گنوائے ویسی ہی کچھ صورتحال چنئی اسٹیڈیم میں بھی بنی اور انگلینڈ دو سیشن میں منہدم ہو گیا۔انگلینڈ کا اسکور ایک وقت بغیر کسی نقصان کے 103رنز تھا جو لنچ کے بعد پہلے گھنٹے کے اندر ہی چار وکٹ پر 129رن ہو گیا،چائے کے آرام کے بعد دوبارہ سے یہی کہانی دہرائی گئی،پچ اب بھی فلیٹ تھی لیکن ہندوستانی گیند بازوں کی تعریف کرنی ہوگی کہ انہوں نے بلے بازوں پر دباؤ بنا کر انہیں وکٹ گنوانے کے لیے مجبور کر دیا۔انگلینڈ کی اننگز کے خاتمے کا کریڈٹ جڈیجہ کو جاتا ہے جنہوں نے اپنے کیریئر میں چھٹی بار اننگز میں پانچ یا اس سے زیادہ وکٹ لئے۔انہوں نے صبح چار رن کے ذاتی اسکور پر زندگی پانے والے کک کو آؤٹ کرکے ہندوستان کو پہلی کامیابی دلائی۔کک کو جڈیجہ نے سیریز میں چھٹی بار پویلین کی راہ دکھائی۔بائیں ہاتھ کے اس اسپنر نے اس کے بعد جڈیجہ نے اس کے بعدجیننگز اور بھروسہ مند جو روٹ(6)کو آؤٹ کیا جبکہ تیسرے سیشن میں معین علی(44)اور بین اسٹوکس(23)اہم وکٹ حاصل کئے۔معین اور سٹوکس نے چائے کے آرام سے پہلے 19اوور تک اپنی ٹیم کو کوئی جھٹکا نہیں لگنے دیا تھا۔انہوں نے بعد میں اسٹیورٹ براڈ اور جیک بال کو آؤٹ کرکے انگلینڈ کی اننگز کا خاتمہ کیا۔دوسرے سرے سے ایشانت شرما(17رن دے کر ایک)، امت مشرا(30رن دے کر ایک)اور امیش یادو (36رنز دے کر ایک)نے ایک ایک وکٹ نکال کر جڈیجہ کا اچھا ساتھ دیا۔گزشتہ کچھ وقت سے ہندوستانی جیت کے ہیرو رہے روی چندرن اشون نے پورے میچ میں صرف ایک وکٹ لیا لیکن ہندوستان نے دکھا دیا کہ ان کے نہیں چلنے کے باوجود وہ جیت درج کر سکتے ہیں۔
جیننگزنے جڈیجہ کو واپس کیچ تھمایا۔ایک طرح سے انہوں نے گیند باز کو کیچ کی پریکٹس کرائی۔روٹ نے سوئپ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ بھول گئے اور ایل بی ڈبلیو ہو کر پویلین لوٹے۔میدانی امپائر نے حالانکہ انہیں آؤٹ نہیں دیا اور ہندوستانی کپتان وراٹ کوہلی نے ساتھیوں سے مشورہ کرنے کے بعد ڈی آرایس کا سہارا لیا۔ری پلے سے صاف ہو گیا کہ گیند لیگ اسٹمپ کو مار کر رہی تھی،اس کے بعد بییرسٹ نے ایشانت کی گیند ڈیپ مڈ وکٹ پر فلک کیا لیکن جڈیجہ نے اپنی مہارت کا شاندار نمونہ پیش کر کے دوڑ لگاکار بہترین کیچ لیا۔معین اور سٹوکس نے پانچویں وکٹ کے لئے 63رن جوڑ کر انگلینڈ کی میچ بچانے کی امید بنائے رکھی لیکن جڈیجہ نے ان دونوں کو مسلسل اوور میں پوییلن کی راہ دکھا کر ہندوستانی خیمے کی خوشی دونی کر دی۔انگلینڈ کے بلے باز کافی دباؤ میں کھیل رہے تھے اور جڈیجہ نے اس کا فائدہ اٹھایا۔معین نے ان کی گیند پر مڈ آن پر کھڑے اشون کو کیچ تھماکر اپنا وکٹ انعام میں دیا جب سٹوکس نے خراب شاٹ کھیل کر مڈ وکٹ پر نائر کو کیچ دیا۔مشرا نے اگلے اوور میں لیام ڈاوسن کو گگلی پر بولڈ کیا جبکہ جڈیجہ نے امیش یادو کی گیند پر عادل راشد کا براہ راست کیچ لینے میں کوئی غلطی نہیں کی۔جوس بٹلر نے ایک سرے پر کھوٹا گاڑ دیا تھا۔انہوں نے 50گیند کھیلی اور ناٹ آؤٹ چھ رن بنائے۔ایسے میں جڈیجہ نے اپنے ایک اور میں دوسرے سرے پر کھڑے بریڈ اور گیند کو پویلین بھیج کر ہندوستانیوں کو فتح کے جشن میں ڈبو دیا۔