ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ہندوستانی ٹیم کی نگاہیں ا سپین کے جانبازوں کو چیلنج کرنے کی

ہندوستانی ٹیم کی نگاہیں ا سپین کے جانبازوں کو چیلنج کرنے کی

Fri, 16 Sep 2016 15:23:35    S.O. News Service

نئی دہلی، 15؍ستمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )ہندوستانی ٹیم کل سے یہاں شروع ہونے والے ڈیوس کپ ورلڈ گروپ پلے آف مقابلے میں پانچ بار کی چمپئن اسپین سے مقابلہ کے لیے تیار ہے جس میں اسٹار رافیل نڈال سمیت عالمی سطح کے کھلاڑی موجود ہیں ۔اسپین کی ٹیم ایلیٹ ورلڈ گروپ میں مقام حاصل کرنے کے لیے بے تاب ہے۔عالمی گروپ پلے آف مقابلہ حالا نکہ ہندوستان کے واحد کھلاڑی ساکیت مائنینی(4)اور رام کمار رامناتھن(1)کے لیے اچھا موقع ہو گا جن کے پاس کل ملا کر ڈیوس کپ کیریئر کے نام پر صرف پانچ میچ کھیلنے کا تجربہ ہے۔یہ دونوں بہترین کھلاڑیوں کے خلاف خود کا امتحان ہی نہیں لینا چاہتے بلکہ ان سے کافی کچھ سیکھنا بھی چاہتے ہیں۔ہندوستانی ٹینس شائقین کے لیے بھی یہ زندگی میں ایک بار ملنے والا موقع ہو گا، کیونکہ انہیں اس دوران 14بار کے گرینڈسلیم چمپئن نڈال کو مسابقتی میچ میں کھیلتے ہوئے دیکھنے کا موقع ملے گا۔یہ کھلاڑی حالانکہ گزشتہ کچھ وقت سے جوجھ رہا ہے لیکن انہیں کبھی بھی کمتر نہیں سمجھا جا سکتا۔ساتھ ہی ہندوستان کے پاس اتنے اے ٹی پی ٹورنامنٹ نہیں ہیں جس میں ٹینس اسٹار جیسے نڈال، ڈیوڈ فیرر(دنیا کے 13ویں نمبر کے کھلاڑی)اور فرنچ اوپن چمپئن فلیسیانو لوپیز(عالمی درجہ بندی میں 26ویں مقام پر)اور مارک لوپیز(ڈبلز میں عالمی درجہ بندی میں 15ویں مقام پر)آکر کھیل سکتے ہیں۔

دنیا کے چوتھے نمبر کے کھلاڑی نڈال اسپین کے پانچ میں سے چار ڈیوس کپ خطابی جیت2004، 2008، 2009، 2011میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں اور فیرر نے بھی تین خطاب 2008، 2009، 2011میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔اسپین کے ان چاروں کھلاڑیوں ،نڈال(16) فیرر(18) فلیسیانو لوپیز(22)اور مارک لوپیز(9)کے پاس مجموعی طورپر 65ڈیوس کپ مقابلوں کا تجربہ ہے۔ہندوستان کے سنگلز کھلاڑیوں کو صرف پانچ میچوں کا تجربہ ہے جس میں سے رام کمار نے دو ماہ پہلے ہی چندی گڑھ میں کوریا کے خلاف اپنے ڈیوس کپ کی شروعات کی ہے۔سمت ناگل کو اگر ایک میچ ملتا ہے تو ان کے لیے اچھا ہو گا۔ہندوستانی ٹیم امید کرے گی کہ 53میچوں کے تجربہ کار لینڈر پیس ان غیر تجربہ کار کھلاڑیوں کی بہترین قیادت کریں۔ان عالمی سطح کے کھلاڑیوں کے خلاف کھیلتے ہوئے شکست ملنے پر کوئی بھی سوال نہیں اٹھائے گا لیکن جس طرح ہندوستانی کھلاڑی کھیلتے ہیں اور چیلنج دیتے ہیں، اس پر ضرور سب کی نگاہیں ٹکی ہوں گی۔جیسا کہ پیس نے کہا ہے کہ گنوانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ مائنینی اور رام کمار کو اپنے میچوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔28 سالہ مائنینی امریکی اوپن میں ایک مقابلہ کھیل کر آ رہے ہیں، بلکہ انہوں نے کوالیفائر کے ذریعے اہم ڈرا میں جگہ بنائی تھی۔انہوں نے امریکی اوپن میں اپنے پہلے راؤنڈ میں جری ویسیلی کے خلاف بہتر مظاہرہ کیا تھا۔

مائنینی کی سروس مضبوط ہے اور ان کے میدانی اسٹروک بھی بہتر ہیں لیکن ان کی فٹنس ہمیشہ تشویش کا باعث رہتی ہے۔وہ بہت جلد ڈی ہائیڈریٹ ہو جاتے ہیں جس سے انہیں پٹھوں میں کھینچاؤ آنے لگتا ہے۔پیس ڈیوس کپ تاریخ میں سب سے زیادہ کامیاب ڈبلز کھلاڑی بننے سے محض ایک جیت دور ہیں۔وہ 42ڈبلز مقابلے جیت کر ابھی مشترکہ طور پر اٹلی کے عظیم کھلاڑی نکولا پی اینٹراگیلی کے ساتھ ہیں۔حالانکہ وہ اور روہن بوپنا اچھی طرح تال میل نہیں بٹھا پائے لیکن اگر بوپنا کھیلنے تو ہندوستان کا ڈبلزمجموعہ بہتر ہوتا اور اس تجربہ کار ہندوستانی کھلاڑی کے پاس یہ ریکارڈ بنانے کا بہترین موقع ہوتا۔اگر مائنینی تھکتے نہیں ہے اور اگلے دن کے ڈبلز میچ میں کھیلنے کے لیے فٹ رہتے ہیں تو ان کے پیس کے ساتھ ڈبلز میں کھیلنے کا امکان ہے۔ٹاپ 100میں ایک بھی کھلاڑی نہ ہونے کے باوجود ہندوستان نے مسلسل پلے آف مرحلے میں پہنچ کر خود کو ایشیائی خطے میں مضبوط بنا لیا ہے، لیکن عالمی گروپ میں جگہ بنانے کے لیے اور اس میں برقرار رہنے کے لیے ٹیم کو بہترین سنگلز کھلاڑیوں کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے ، ورنہ ٹیم صرف ایشیا -اوسنیا گروپ میں ہی کھیلتی رہے گی۔


Share: