نئی دہلی، 27؍جون(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا ) اپنے پڑوسی ملک پاکستان کے ساتھ تعلقات کوبہتر کرنے کی کئی پہل کر چکے وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ ہندوستان کوہر وقت محتاط اور ہوشیار رہنا ہوگا، لیکن ساتھ ہی انہوں نے سوال اٹھایا کہ پاکستان میں کس کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے لکشمن ریکھا کھینچی جا سکتی ہے۔منتخب حکومت کے ساتھ یا دوسرے عناصر کے ساتھ۔ مودی نے کہا کہ ہندوستان کو اب اس حقیقت سے فائدہ اٹھانا ہوگا کہ سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی پر ہماری طرف سے مسلسل اپنی بات رکھے جانے کے بعد اب دنیا ہمارے خیال سے اتفاق رکھتی ہے۔انہوں نے میڈیا سے بات چیت میں کہاکہ پہلی بات تو ہے کہ پاکستان میں آپ کس کے ساتھ لکشمن ریکھا کھینچیں گے، منتخب حکومت کے ساتھ یا دیگر عناصر کے ساتھ۔ اس لیے ہندوستان کو ہمہ وقت محتاط اور چوکنا رہنا ہوگا۔ کوئی سستی یا غفلت نہیں برتی جانی چاہیے ۔مودی سے سوال کیا گیا تھا کہ پاکستان کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے لکشمن ریکھاکیا ہے ؟ کیونکہ 2014میں کہا گیا تھا کہ صرف دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات ہوں گے اور حریت کے ساتھ نہیں ہوگی ۔دوسری بار 26/11 میں ہوا اور اب پٹھان کوٹ میں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے لاہورسفریا پاکستانی وزیر اعظم کو یہاں مدعو کرنے جیسی ان کی مسلسل کوششوں کی وجہ سے ہی ایسا ہوا ہے کہ انہیں دہشت گردی پرہندوستان کے رخ کے بارے میں دنیا کو سمجھانے کی ضرورت نہیں رہ گئی ہے۔وزیراعظم نے کہاکہ دنیا ایک آواز میں ہندوستان کے کردار کی تعریف کر رہی ہے۔پاکستان کو جواب دینے میں مشکل ہو رہی ہے۔دنیا ا س کو دیکھ رہی ہے۔اگر ہم رکاوٹ بنے رہتے تو ہمیں دنیا کو اعتراف کرانا ہوتا کہ ہم اس طرح کے نہیں ہیں۔مودی نے کہاکہ پہلے دنیا دہشت گردی پرہندوستان کے خیالات سے متفق نہیں تھی اور کئی بار تو اسے قانون وانتظام کا مسئلہ بتاتی تھی ۔اب پوری دنیا اس بات کو قبول کر رہی ہے جو ہندوستان دہشت گردی پر کہتا ہے۔وہ دہشت گردی سے ہندوستان کوہوئے نقصان کو، دہشت گردی سے انسانیت کو ہوئے نقصان کو قبول کر رہی ہے۔میرا خیال ہے کہ ہندوستان کو اس معاملے میں اپنے خیالات پیش کرتے رہناہوگا۔