دلدارنگر،:30/جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی و کامیابی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے اوراس کے بغیر نہ توافراد کامیاب ہوسکتے ہیں اور نہ قومیں ترقی کرسکتی ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار معروف قومی و ملی رہنما اور ممبر پارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی نے سلیم منزل ،دلدار نگر ،غازی پورمیں تحریک اصلاح معاشرہ کمیٹی کے زیر اہتمام اصلاحِ معاشرہ و تعلیمی بیداری کے عنوان سے منعقدہ سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔مولاناقاسمی نے کہاکہ اس وقت دنیا میں وہی قومیں ترقی کی بلندیوں پر فائز ہیں جنہوں نے تعلیمی میدان میں اپنا لوہامنوایاہے اور وہ ہر وقت نئی چیزوں کو سیکھنے اور جاننے میں مصروف ہیں۔انھوں نے کہاکہ اسلام چودہ سوسال قبل ہی عالمِ انسانیت کے سامنے اس حقیقت کو واضح کردیا تھا کہ علم حاصل کیے بغیر دین و دنیا کی کوئی بھی کامیابی حاصل نہیں کی جاسکتی اور اسی وجہ سے اسلام کا آغاز ہی’’اقرأ‘‘کے پیغام سے ہوا تھا،اس کے ذریعے اللہ تبارک و تعالیٰ نے سب سے پہلے اپنے آخری نبیﷺکو پڑھنے کاحکم دیا مگر درحقیقت یہ حکم قیامت تک آنے والے تمام مسلمانوں کے لیے تھا،اسی وجہ سے حضور پاکﷺنے صحابۂ کرامؓ کو حصولِ علم کی خصوصی ترغیب دی اور انھیں اس زمانے میں موجود ہر قسم کا مفید علم حاصل کرنے کی تلقین کی۔مولانا قاسمی نے کہاکہ دور اول میں مسلمانوں کے اندر حصول علم کا بے پناہ جذبہ پایاجاتا تھا اسی وجہ سے اس زمانے میں دنیا کے تمام علوم پر مسلمانوں کی گہری چھاپ پڑی اور انہوں نے دوردراز کا سفر کرکے نہ صرف قرآن و حدیث کا علم حاصل کیابلکہ اس زمانے میں رائج دوسرے علوم کو بھی حاصل کیا۔مولانانے کہاکہ اس دورمیں بھی ہماری کامیابی و ترقی کا واحد ذریعہ علم ہی ہوسکتا ہے اور اپنی موجودہ و آنے والی نسلوں کو تعلیم یافتہ بناکر ہی ہم پریشانیوں کو دور کر سکتے ہیں اور معاشرتی ومعاشی سطح پر ترقی و کامیابی کی منزلیں طے کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ یہ افسوس ناک صورت حال ہے کہ جس امت کو اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کی قیادت کے لیے منتخب کیاتھاآج اس کے زیادہ تر افراد جہالت کی تاریکیوں میں زندگی گزار رہے ہیں اور انہیں علم کی اہمیت کا احساس نہیں ہے۔مولانااسرارالحق نے ملت کے ذمہ دار اور باشعور و تعلیم یافتہ افراد سے اپیل کی کہ وہ معاشرے میں تعلیم کو عام کرنے کے لیے ہر سطح پر کوشش کریں اور نئی نسل کے مستقبل کو روشن و تابناک بنانے کے لیے ان کے اندرعلم کی محبت اور حصولِ علم کی لگن پیدا کرنے کی جدوجہد کریں۔قبل ازاں مولانانے فاطمہ گرلس انٹرکالج میں طالبات کو خطاب کرتے ہوئے اصلاح معاشرہ و تعلیمی بیداری پر خطاب کیا،جس میں انھوں نے معاشرے کی اصلاح پر زور دینے کے ساتھ خواتین کو ہر قسم کے مفید علوم سے آراستہ کرنے کی تاکید کی ۔اس موقع علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسر سراج اجملی نے بھی خطاب کیااور علم کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔اس موقع پرپھولوں کی مالاپہناکر مولانااسرارالحق قاسمی کا استقبال کیاگیا اورڈاکٹر حیدرعلی خان نے مولاناکا تعارف کراتے ہوئے کشن گنج میں اے ایم یوسینٹرکے قیام میں مولاناکی جدوجہد کی ستائش کی اورکہاکہ مولاناکے ایم پی بننے کے بعدکشن گنج کی تعلیمی شرح فیصدمیں قابل قدراضافہ ہواہے اورمسلمانوں میں تعلیم کے فروغ کے تئیں مولاناکی سرگرمیاں مسلسل جاری ہیں۔ سمینارکا آغاز قاری سہیل چشتی کی تلاوت سے ہوا،جبکہ نظامت کے فرائض ابراراحمدخان نے انجام دیے۔اس موقع پرکمیٹی کے صدرعبدالکلام،سکریٹری رفیع اللہ خان،سرپرست ڈاکٹر صلاح الدین خان،سابق پرنسپل ذوقوخان،سابق چیئر مین انیشیرراعین ڈگری کالج کے غلام مظہر،ایڈووکیٹ انعام الحق،توفیق خان،اے ایم یواولڈبوائز کولکاتہ کے شمشاد خان،دارالعلوم اسراریہ سنتوشپور کولکاتہ کے مہتمم مولانانوشیراحمد،ابوبکر خان،معراج خان ،صدام خان کے علاوہ سامعین کی بڑی تعداد موجود رہی۔