انقرہ،9نومبر(آئی این ایس انڈیا) ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے دو ٹوک انداز میں واضح کیا ہے کہ اُن کا ملک دیگر ممالک کے انخلا سے قبل شام سے نہیں نکلے گا۔ ایردوآن نے یہ بات جمعہ کے روز ہنگری کے دورے سے واپسی پر طیارے میں موجود صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ترکی سرحد پار کرد جنگجوؤں کے خلاف حملے کا سلسلہ جاری رکھے گا یہاں تک کہ اُس علاقے میں موجود تمام جنگجو کوچ کر جائیں۔
گذشتہ ماہ ترکی نے شام کے شمال مشرق میں تیسری مرتبہ حملہ کیا تھا۔ اس کا مقصد کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس (تنظیم) کو اپنی سرحد سے دور کرنا اور وہاں ایک سیف زون قائم کرنا ہے۔ امید ہے کہ اس زون میں 20 لاکھ شامی پناہ گزینوں کو واپس لا کر بسایا جائے گا۔ایردوآن نے صحافیوں کو دیے گئے بیان میں واضح کیا کہ ہم علاقے سے آخری دہشت گرد کے جانے تک اپنی کارروائی جاری رکھیں گے۔ اُن کا اشارہ پیپلز پروٹیکشن یونٹس کی جانب تھا جو سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) میں مرکزی تنظیم ہے۔ ایس ڈی ایف کو امریکا کی حمایت حاصل ہے جب کہ انقرہ اسے ایک دہشت گرد تنظیم شمار کرتا ہے۔
ترکی اور روس کے درمیان طے پائے گئے معاہدے کے مطابق روسی اور تُرک فورسز شام اور ترکی کی سرحد پر مشترکہ گشت کر رہی ہیں۔ تاہم سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے ترجمان مصطفی بالی کا کہنا ہے کہ ترکی کی فوج نے اس گشت پر احتجاج کرنے والے بعض شہریوں پر آنسو گیس کے گولے فائر کیے۔ بالی نے ٹویٹر پر بتایا کہ احتجاج پُر امن ہونے کے باوجود ترکی کی فوج نے شہریوں کو آنسو گیس کے گولوں کا نشانہ بنایا جس سے دس افراد زخمی ہو گئے۔