ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ہزاروں لوگوں کوکروڑوں کا دھوکہ دینے والے سچن نائک کی 3رئیل یسٹیٹ کمپنیوں کے خلاف سی آئی ڈی جانچ جاری

ہزاروں لوگوں کوکروڑوں کا دھوکہ دینے والے سچن نائک کی 3رئیل یسٹیٹ کمپنیوں کے خلاف سی آئی ڈی جانچ جاری

Fri, 07 Apr 2017 14:53:33    S.O. News Service

بنگلورو،6/اپریل(ایس او نیوز/صدیق آلدوری) مڈیوال پولیس نے سینکڑوں عوام کی جانب سے درج شدہ شکایت کی روشنی میں عوام کو دھوکہ دینے والی تین رئیل یسٹیٹ کمپنیوں ڈریمس انفراانڈیا، ٹی جی ایس کنسٹرکشن پرائیویٹ لمیٹیڈ اور ہاؤزنگ ویلفیر پرائیویٹ لمیٹیڈ کے خلاف کیس درج کئے تھے۔ ان تینوں کمپنیوں نے اخبارات اور ٹی وی پر عوام کوراغب کرنے والے اشتہارات اور آفرس دے کر انہیں سائٹ، فلیٹس اور مکانات مہیا کرنے کا وعدہ کرکے ان سے کروڑوں کی رقم حاصل کی تھی۔ اس سلسلہ میں انہوں نے کئی نامور افراد کی تصویریں بھی اپنے اشتہارات میں استعمال کی تھیں۔ پھر ان کمپنیوں نے کاروبار میں نقصان کا اعلان کرکے رقم ادا کرنے والوں کو رقم واپس اداکرنے پوسٹ ڈیٹ چیک دئے تھے لیکن ان چیکس کو اکاؤنٹ میں ڈالنے پر یہ چیک بار بار باؤنس ہوئے تو ان کمپنیوں کے خلاف مڑیوال تھانہ میں لوگ شکایت درج کروانے لگے۔ ڈریمس کمپنی کے خلاف37، ٹی جی ایس کمپنی کے خلاف27؍اور ہاؤزنگ ویلفیر کمپنی کے خلاف مڑیوال پولیس نے18کیس درج کئے تھے ، ان معاملات کی سنگینی اور کروڑوں روپئے دھوکہ دہی کا معاملہ سامنے آنے پر اب پولیس نے یہ سارے معاملات مزید تحقیقات کے لئے سی او ڈی کے حوالے کردئے ہیں۔ سی اوڈی نے یہ کیس اپنے ہاتھ لے کر اس معاملہ کی تفصیلی جانچ شروع کی تو پتہ چلا ہے کہ ملزمین سچن نائک عرف سمپت کمار داس عرف سمپت عرف یوگیش چودھری عمر39سال جو مہاراشٹرا کے رتنا گری ضلع نانچن دیہات کا رہنے والا ہے وہ ممبئی چلاآیاتھا۔ یہاں اس کی ملاقات عائشہ سے ہوئی اور اس کے ساتھ زندگی گزارنے لگا ، اس کا نام بدل کر دشا چودھری رکھ دیا اور دولت کمانے کے لئے اس نے فرانٹیر کے نام سے ایک کمپنی قائم کی وہ2002میں بنگلور چلاآیا اور یہاں ایک پرائیویٹ ادارے میں کام کررہاتھا۔ اپنی قائم کردہ کمپنی میں اس نے 800ممبرس سے16کروڑ کی رقم حاصل کی اور رقم اور منافع لوٹائے بغیر انہیں دھوکہ دیاتو2009میں اس کے خلاف کمرشیل اسٹریٹ تھانہ میں دھوکہ دہی کا کیس درج کرکے اسے گرفتار کرلیا اور اس کے خلاف عدالت میں ابھی مقدمہ چل رہاہے۔ ضمانت پر رہا ہونے کے بعد اس نے دوبارہ اپنی بیوی دشاچودھری کے نام سے ڈریمس انٹرا انڈیا کمپنی قائم کی اور اپنی دوسری بیوی مندیپ کور کے نام پر ٹی جی ایس کنسٹرکشن پرائیویٹ لمیٹیڈ کے نام سے اور اپنی داشتہ ستاپرنی کے نام سے ہاؤزنگ ویلفیر پرائیویٹ لمیٹیڈ کے نام سے تین الگ الگ ہاؤزنگ کمپنیاں قائم کرلیں اور لوگوں کو سائٹ ،اپارٹمنٹ اور مکانات دینے کے نام پر کروڑوں کی رقم اکٹھا کرکے اپنی پہلی بیوی دشاچودھری کو فلم کی ہیروئین سباکر’’انورادھا‘‘ نام سے ایک ہندی فلم بنارہاہے۔ کنکا پورہ تعلقہ میں وہ11.5ایکڑ زمین حاصل کرکے وہاں شرڈی سائی بابا کا مندر بنارہاہے، یہ جعلساز آئی پی ایل کرکٹ ٹورنمنٹ میں آر سی بی ٹیم میں بھی اشتہارات دیتارہاہے۔، اس دلیر جعلساز نے ہندی فلموں کے مقبول اداکار رہتک روشن کو بھی اپنا برانڈ ایماسیڈر بناکر سینڈ مائی گفٹ نام کی ایک اور کمپنی کا بھی افتتاح رہتک روشن کے ہاتھوں کروایاہے۔ اس نے لوگوں سے حاصل سرمایہ کو ’’ ڈیلی پوجاڈاٹ کام‘‘ مام اینڈ بے بی پراڈکٹس،،فرنیچر ڈاٹ کام،ڈی کے جی ینٹر پرائزرس، ادیوگ متراٹرسٹ،میں بھی سرمایہ لگایاہے۔ ڈریم انٹرا کے ڈائرکٹر دشاو چودھری ،کنیہا، سجیت سدھاکرن، پنکج کمار سنگھ، انوپ،بھاسکر پرتیت رائے، جئے رامپا ہریش،ششی بھوشن چھا، لوکیش سرینواس، سادن رانا ،سنتوش، سوریہ پرکاش سنگھ اور اقبال خان اس گروپ آف کمپنی میں اس نے48ہاؤزنگ پراجکٹوں کے ناموں کا اعلان کیا تھا۔ جی ٹی ایس کنسٹرکشن پرائیویٹ لمیٹیڈ میں اس نے مندیپ کور، جسدیپ سنگھ، دلیپ، اکل سریش کوشال اور بڈم سدھاکر کوڈائرکٹر بنایاہے۔اور اس نام سے اس نے65ہاؤزنگ پراجکٹوں کا اعلان کرکے ان کے لئے لوگوں سے رقم حاصل کی تھی۔اسی طرح اس نے ہاؤزنگ ویلفیر لمیٹیڈ کمپنی میں موجمدار شات پرنی، مہیپال سنگھ،جتیندر کمار،سرا روڈ ہنسی کٹی اور پیٹے گوڈا جگیش کوڈائرکٹرس بناکر اس کمپنی کے ذریعہ17ہاؤزنگ پراجکٹوں میں فلاٹس اور مکانات دینے کے بہانے عوام سے رقم حاصل کی تھی۔ سی آئی ڈی پولیس اس معاملہ کی مزید جانچ کررہی ہے۔ بنگلور سٹی پولیس کے ڈپٹی کمشنرکی قیادت میں سی آئی ڈی پولیس نے اس کیس کی تحقیقات شروع کرنے کے بعد اب تک اس معاملہ میں13افراد کو حراست میں لیاہے جن کے نام ہیں۔ سچن نائک، دشاچودھری، مندیپ کور، لوکیش سرینواس، امرناتھ، اقبال خان،سوریہ پرکاش سنگھ، سرا روڈ ہنی کٹی،پیٹے گوڈا جگدیش،بڈم سدھاکرن، سجیت سدھاکر اکول کوشال اور جندیپ سنگھ، مفرور ملزمین کی تلاش جاری ہے۔ اس دوران3 ؍ اپریل کو سی آئی ڈی پولیس نے ڈریم انفراانڈیا کے ڈائرکٹر انوپ کے ایم کو گرفتار کرکے عدالت کے آگے حاضر کیاہے اور جن لوگوں نے ان تین کمپنیوں میں اپناسرمایہ لگاکر دھوکہ کھایاہے ان کی جانب سے شکایتیں درج کرنے سی آئی ڈی کے دفتر پر خصوصی سیل قائم کیاہے جن لوگوں نے ان کمپنیوں سے دھوکہ کھایاہے وہ لوگ فون نمبر 080-22094451پر رابطہ کرکے تفصیلات حاصل کرکے اس سیل میں اپنی جانب سے ان تینوں کمپنیوں کے خلاف کیس درج کرسکتے ہیں۔ اور اگر کسی کو ان جلعسازوں کی املاک کے بارے میں یا ان کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات معلوم ہیں تو وہ لوگ خفیہ طورپر سی آئی ڈی پولیس کو ای میل alertcideksp.gov.in پر روانہ کرسکتے ہیں اور ان کمپنیوں کے ساتھ کس طرح کا مالی لین دین نہ کرنے عوام کو ہدایت دی گئی ہے۔


Share: