ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / آر ایس ایس پر پرینک کھرگے کا ایک اور بڑا حملہ، بی جے پی کو قرار دیا ’’آر ایس ایس کا آلۂ کار‘‘

آر ایس ایس پر پرینک کھرگے کا ایک اور بڑا حملہ، بی جے پی کو قرار دیا ’’آر ایس ایس کا آلۂ کار‘‘

Sat, 27 Jun 2026 19:29:19    S O News
priyanka-kharge-on-X

بنگلورو، 27 /جون (ایس او نیوز) کرناٹک کے وزیر داخلہ پرینک کھرگے نے ایک بار پھر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر سخت نظریاتی حملہ کرتے ہوئے دونوں تنظیموں کے باہمی تعلقات اور آر ایس ایس کی قانونی حیثیت پر کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنی تازہ پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ ’’جب بھی کوئی آر ایس ایس سے سوال کرتا ہے، بی جے پی اپنا توازن کھو بیٹھتی ہے۔‘‘ ان کے اس بیان نے ریاستی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے اور کانگریس و بی جے پی کے درمیان لفظی جنگ مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔

پرینک کھرگے نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ اگر یہ سوال کیا جائے کہ آزادی کی جدوجہد میں کوئی کردار ادا نہ کرنے والی آر ایس ایس آج ملک کو حب الوطنی کا سبق کیوں پڑھا رہی ہے تو بی جے پی شدید برہم ہو جاتی ہے۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ناگپور میں واقع آر ایس ایس کے ہیڈکوارٹر پر ہندوستان کا قومی ترنگا لہرانے میں 52 برس کیوں لگے، اور اس سوال پر بھی بی جے پی مشتعل ہو جاتی ہے۔

انہوں نے مزید سوال کیا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی دراصل کس آئین کے پابند ہیں؟ کیا وہ ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر کے تحریر کردہ ہندوستانی آئین کو مانتے ہیں یا ایسے آئین کو جسے وہ خود نافذ کرنا چاہتے تھے؟ کھرگے نے یہ بھی پوچھا کہ آر ایس ایس آج تک خود کو ایک قانونی تنظیم کے طور پر رجسٹر کرانے اور حکومت کو ٹیکس ادا کرنے سے کیوں گریز کرتی ہے۔ ان کے مطابق، ایسے سوالات پر بی جے پی غصے میں آ جاتی ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ بی جے پی کبھی بھی آر ایس ایس کی محض اتحادی نہیں رہی بلکہ ہمیشہ اس کے ایک آلے کے طور پر کام کرتی رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر بار بی جے پی کا ردعمل اس حقیقت کی تصدیق کرتا ہے کہ اس کی باگ ڈور آر ایس ایس کے ہاتھ میں ہے۔

اس سے قبل بھی پرینک کھرگے نے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کو ایک سرکاری مکتوب ارسال کرتے ہوئے تنظیم کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ کرناٹک میں آر ایس ایس کے بڑے جلوسوں اور عوامی اجتماعات کو ریاستی محکمۂ داخلہ ہی سیکورٹی فراہم کرتا ہے، ایسے میں یہ واضح کیا جانا چاہیے کہ تنظیم کس قانون کے تحت کام کر رہی ہے، اس کا رجسٹریشن نمبر کیا ہے، اس کے ذمہ دار عہدیدار کون ہیں، فنڈنگ کے ذرائع کیا ہیں اور کیا وہ ٹیکس ادا کرتی ہے۔

کھرگے نے کہا تھا کہ اتنی بااثر عوامی تنظیم کے لیے ضروری ہے کہ وہ آئین اور ملک کے قوانین کی پابند ہو، اور اس سے شفافیت کا مطالبہ کرنا کوئی غلط بات نہیں۔

ادھر پرینک کھرگے کے مسلسل بیانات پر بی جے پی رہنماؤں اور ارکانِ پارلیمنٹ نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ رمیش جگجناگی نے کھلے عام کھرگے کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’’آر ایس ایس سے ٹکر لینے والا کوئی بھی شخص سیاسی طور پر باقی نہیں رہا۔‘‘ انہوں نے کھرگے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ غیر ضروری طور پر آر ایس ایس سے محاذ آرائی کر رہے ہیں اور انہیں وزیر داخلہ کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں پر توجہ دینی چاہیے۔ دیگر بی جے پی رہنماؤں نے بھی آر ایس ایس کو ایک محب وطن تنظیم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے خلاف بیان بازی کانگریس کی مبینہ ہندو مخالف پالیسی کی عکاسی کرتی ہے۔

بی جے پی کی تنقید اور دھمکیوں کے جواب میں پرینک کھرگے نے کہا کہ اس طرح کے بیانات بی جے پی کی جاگیردارانہ اور منو وادی ذہنیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ ’’یہ کہنا کہ آر ایس ایس سے ٹکر لینے والا باقی نہیں رہتا، آخر اس کا مطلب کیا ہے؟ کیا آر ایس ایس کوئی دہشت گرد تنظیم ہے جو سوال اٹھانے والوں کو ختم کر دیتی ہے؟‘‘

کھرگے نے کہا کہ وہ ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر کے نظریات کے پیروکار ہیں اور سوال کرنے کی جرأت اور فکری شعور انہیں امبیڈکر کے فلسفے سے ملا ہے۔ ان کے مطابق، ’’امبیڈکر کے نظریات پر یقین رکھنے والے لوگ کسی دھمکی سے نہیں ڈرتے، ہم آپ کی دھمکیوں سے مرعوب ہونے والے نہیں ہیں۔‘‘

پرینک کھرگے کی تازہ پوسٹ محض ایک سوشل میڈیا بیان تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے آر ایس ایس کی قانونی حیثیت، اس کی تاریخ اور حب الوطنی سے متعلق اس کے دعووں پر ایک نئی سیاسی بحث کو جنم دیا ہے۔ ان کے بیانات کے بعد ریاست میں آر ایس ایس اور بی جے پی کے کردار، شفافیت اور آئینی جوابدہی سے متعلق بحث ایک بار پھر تیز ہو گئی ہے۔


Share: